تفصیلات کے مطابق سن لی نے ایران جوہری معاہدے کو ایک اہم کثیرالجہتی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے ذریعے دی گئی تھی۔ تاہم، 2018 میں امریکا نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کی اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اپنائی۔
اُن کا کہنا تھا کہ جون 2025 میں امریکا اور اسرائیل نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی رپورٹس کو بنیاد بنا کر ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے۔
چینی سفیر نے کہا کہ امریکا کی دستبرداری کے بعد، جے سی پی او اے کے تین یورپی فریق (برطانیہ، فرانس اور جرمنی) نے امریکا کے ساتھ یکطرفہ پابندیاں عائد کیں، اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا، تنازعہ کے حل کے طریقہ کار کو استعمال نہیں کیا اور سنیپ بیک کی پابندیوں پر زور دیا، جس سے فریقوں کے درمیان کشیدگی اور تصادم میں اضافہ ہوا۔
سن لی نے زور دیا کہ طاقت اور تصادم اس مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ تمام فریقوں کو تحمل سے کام لینا چاہیے اور سفارتکاری اور مکالمے کے ذریعے اختلافات حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے قبول کرنی چاہیے، سیاسی ایمانداری دکھانی چاہیے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرنا چاہیے۔
چینی مندوب نے یورپی فریقوں پر بھی زور دیا کہ وہ مائیکروفون سفارتکاری ترک کریں، کشیدگی کم کریں اور اختلافات کے حل میں تعمیری کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے بار بار یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن ہے اور وہ کوئی جوہری ہتھیار تیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
سن لی نے کہا کہ چین متعلقہ ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ایران کی نیک نیتی اور مثبت اقدامات کو اہمیت دیں اور یکطرفہ دباؤ یا مداخلت سے گریز کریں۔ تمام فریقوں کو ایک دوسرے کی معقول سیکیورٹی تشویشات کا احترام کرنا چاہیے، مساوی بنیادوں پر مکالمے کے ذریعے کشیدگی کم کرنی چاہیے، باہمی اعتماد قائم کرنا چاہیے اور عالمی توقعات کے مطابق جلد از جلد ایک حل تلاش کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس: صدارتی محل سے ہزاروں پاؤنڈ مالیت کے میزپوش اور برتن چوری، ملازم گرفتار
چین نے ایران جوہری مسئلے پر مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے عالمی سطح پر اپنا تعمیری کردار جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے
سن لی نے کہا کہ چین جے سی پی او اے کا حصہ ہونے اور سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہونے کے ناطے ہمیشہ ایران جوہری مسئلے پر امن اور مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے۔






