ابراہیم ذوالفقاری نے بدھ کے روزایرانی میڈیا پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں؟‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ نہ تو خطے میں اپنی سرمایہ کاری دوبارہ دیکھیں گے اور نہ ہی توانائی اور تیل کی وہ پرانی قیمتیں، جب تک آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ خطے کا استحکام ہماری مسلح افواج کے طاقتور ہاتھ سے یقینی بنتا ہے۔ استحکام طاقت سے آتا ہے۔‘

ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ’ہم جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ نہ اب، نہ کبھی۔‘

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کےساتھ ساتھ کویت،اردن،بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا ہے۔

پاسداران انقلاب گارڈز کے مطابق اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جس میٖں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں اب کوئی قیادت باقی نہیں رہی اور ایران میں شاندار کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران رضامند ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائےگا، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے، اب ہم صحیح لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی وزیراعظم شہباز شریف سے خطے کی سلامتی پر اہم گفتگو

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران سے بات کر رہے ہیں، ایران میں شاندار کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، ان کی نیوی، ائیر فورس تباہ کر دی ہے، ہم نے ان کی قیادت ختم کردی ہے، یہ رجیم چینج ہے، انہوں نے ہمیں ایک تحفہ بھیجا جو کل مل گیا، ایران نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا ہے، تحفہ بہت قیمتی اور آبنائے ہُرمُز سے متعلق تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں اب نئی قیادت ہے دیکھتے ہیں کہ وہ کیسا کام کرتے ہیں، ایران کی نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ہے۔

ٹرمپ نے بتایا کہ ایران سے بات چیت میں نائب صدر جےڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر بھی شریک ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، یو اےای اور قطر ایران کے معاملے میں بہت بہترین رہے۔