نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا مرحلہ مکمل طور پر ناکام نہیں ہوا، تاہم یہ اس وقت ایک نہایت مشکل صورتحال سے دوچار ہے، جس کی بنیادی وجہ ان کے مطابق امریکی رویہ ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ہر اس ملک کی قدر کرتا ہے جو تنازعات کے حل میں مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ ایران کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے اور خطے میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کی کوئی بنیاد موجود نہیں، نہ ایران کے پاس امریکا پر اعتماد کرنے کی کوئی وجہ ہے اور نہ ہی امریکا کے پاس ایران پر بھروسہ کرنے کا کوئی جواز موجود ہے۔
VIDEO | Addressing a presser, Iran Foreign Minister Abbas Araghchi said, “So the most important issue right now is the question of trust. We cannot trust Americans at all. So everything should be exact. Everything should be defined very clearly before we can conclude a deal." pic.twitter.com/0Qj0i7udjI
— Press Trust of India (@PTI_News) May 15, 2026
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے سے قبل تمام شرائط اور نکات واضح ہونا ضروری ہیں، کیونکہ “ایرانی صرف عزت کی زبان سمجھتے ہیں”۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا ذمہ دار نہیں ہوگا، ایران نے کبھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اپنے دفاع میں اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایک امن پسند ملک ہے لیکن اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے 2015 کے جوہری معاہدے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کو عالمی سطح پر سراہا گیا تھا، تاہم ایک سال بعد امریکا نے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے اس سے علیحدگی اختیار کر لی، جبکہ ایران نے اپنے وعدوں پر مکمل عمل کیا۔
انہوں نے کہا کہ جون 2025 میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا، پانچ ادوار مکمل ہوئے، لیکن بعد ازاں ایران پر حملہ کر دیا گیا، جس کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ کچھ عرصے بعد دوبارہ شروع ہوا۔
عباس عراقچی کے مطابق جب فریقین کسی معاہدے کے قریب پہنچ رہے تھے تو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا، جس کا ایران نے بھرپور جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ “جو چیز جنگ کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتی وہ میزِ مذاکرات پر بھی حاصل نہیں کی جا سکتی”۔
ایرانی وزیر خارجہ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات میں مستقل مزاجی نہیں تھی اور اکثر ایک ہی دن میں متضاد پیغامات دیے جاتے تھے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید بڑھایا
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال اسی غیر مستقل اور غیر واضح پالیسیوں کا نتیجہ ہے، اور اسی وجہ سے ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں پیچیدگیاں بڑھتی گئی ہیں
یاد رہے کہ برکس اجلاس میں ایران کی جانب سے یہ مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مختلف عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، ایران کی جانب سے سفارت کاری پر زور دینا خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے، تاہم امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
دوسری جانب ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایران کی افواج ملک کی علاقائی سالمیت، آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے آخری قطرۂ خون تک جدوجہد جاری رکھیں گی اور کسی بھی بیرونی خطرے کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی آرمی چیف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی دفاعی قوت صرف جدید ہتھیاروں پر نہیں بلکہ ایمان، عزم اور قومی جذبے پر بھی کھڑی ہے، جو کسی بھی طاقت کے مقابلے میں ایک مضبوط ہتھیار کی حیثیت رکھتا ہے۔
میجر جنرل امیر حاتمی نے اپنے بیان میں ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایمان کی طاقت وہ قوت ہے جو ایک پرانے ایف-5 لڑاکا طیارے کو بھی دشمن کے جدید اور مضبوط دفاعی نظاموں کے باوجود امریکی افواج کے کویت میں موجود ٹھکانوں تک گہرائی میں پہنچنے کی صلاحیت دے سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ خطے میں مختلف ممالک جدید فضائی اور زمینی دفاعی نظام رکھتے ہیں، لیکن ایران کی مسلح افواج کے پاس وہ جذبہ اور عزم موجود ہے جو ہر قسم کی رکاوٹ کو عبور کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
ایرانی آرمی چیف کے مطابق ملک کی مسلح افواج ہر ممکن طاقت اور وسائل کے ساتھ قومی سلامتی کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں، ایران کے عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ مسلح افواج ان کے تحفظ اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی۔
میجر جنرل امیر حاتمی نے مزید کہا کہ یہ ایک مقدس ذمہ داری ہے جسے وہ خون کے آخری قطرے تک اور مکمل فتح تک جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کی جنوبی لبنان کو وارننگ، 5 دیہات خالی کرنے کا مطالبہ
یاد رہے کہ ایرانی آرمی چیف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں مختلف سطحوں پر کشیدگی اور سکیورٹی صورتحال غیر مستحکم دکھائی دے رہی ہے، ایران کی جانب سے اس نوعیت کے سخت بیانات خطے میں موجودہ کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں پہلے ہی خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کی عسکری قیادت بارہا اس مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاعی صلاحیتوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی بیرونی خطرے کا جواب بھرپور انداز میں دیا جائے گا۔







