مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ اب تک 92 ہزار سے زائد برطانوی شہری کمرشل اور سرکاری چارٹر پروازوں کے ذریعے محفوظ طریقے سے وطن واپس پہنچ چکے ہیں،برطانیہ ایران سے لاحق خطرات کو روکنے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی اور حکومتی اقدامات کر رہا ہے، لیکن کسی بھی فوجی کارروائی میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے برطانوی فوج کی ممکنہ تعیناتی کے حوالے سے کہا کہ کسی بھی وزیر اعظم کے لیے فوج کو بیرونِ ملک تعینات کرنے کا فیصلہ انتہائی مشکل اور حساس ہوتا ہے، اگر فوجیوں کو کسی خطرناک صورتحال میں بھیجا جائے تو انہیں یقین ہونا چاہیے کہ یہ اقدام قانونی اور مکمل طور پر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کی سب سے پہلی ترجیح خطے میں موجود اپنے شہریوں کا تحفظ ہے اور لبنان میں موجود برطانوی شہریوں کی مدد کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں،عالمی منڈیوں میں استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلوانا ضروری ہے، تاہم یہ آسان کام نہیں ہے۔ اسی لیے برطانیہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبے پر کام کر رہا ہے، اور اس سلسلے میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔

انہوں نے روس-یوکرین جنگ کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی حمایت جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ روس مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔

واضح رہے کہ برطانیہ، امریکہ کا اہم اتحادی ملک اور نیٹو کا بھی رکن ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دیگر اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد کریں، اور اگر اتحادی ممالک تعاون نہ کریں تو نیٹو کے مستقبل پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم برطانیہ، آسٹریلیا، فرانس اور جرمنی سمیت کئی دیگر اتحادی ملک اس جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتِ حال پر تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں، چین

 عالمی سطح پر کشیدگی کے اس وقت میں اتحادی ممالک کی محتاط حکمت عملی خطے کے استحکام اور عالمی توانائی مارکیٹ کے تحفظ کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ کیئر اسٹارمر کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ برطانیہ اپنی فوجی اور سفارتی پالیسی میں توازن برقرار رکھے گا اور خطے میں تنازع کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرے گا۔