غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے  کہا کہ میرے خیال میں یہ جنگ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور ہم اس کے اختتام کے بہت قریب ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ جنگ کے خاتمے کے امکانات روشن ہو رہے ہیں، لیکن امریکا نے اپنی حکمت عملی ترک نہیں کی اور اگر ضرورت پڑی تو کارروائیاں دوبارہ تیز کی جا سکتی ہیں، خاص طور پر اگر ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کیں۔
مزید یہ کہ اپنے بعض بیانات میں امریکی صدر نے یہ تاثر بھی دیا کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ عملاً ختم ہو چکی ہے، تاہم صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں اور کسی بھی وقت کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے بروقت کارروائی نہ کی ہوتی تو ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا، جس سے عالمی سطح پر خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آنے والے دن نہایت اہم ہیں اور اسی دوران مذاکرات کے حوالے سے بڑی پیش رفت متوقع ہے۔ ہم ابھی ختم نہیں ہوئے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ (ایران) معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دونوں ممالک کے وفود ایک بار پھر اسلام آباد میں ملاقات کر سکتے ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی عائد کی، جسے ماہرین تنازع میں ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں، اس اقدام کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ کیاجارہا ہے، ایران

پاکستان ایک بار پھر اس پورے عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے بھی پاکستان کی قیادت خصوصاً سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اسلام آباد ایک موزوں اور غیر جانبدار مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق مذاکرات کار اس ہفتے دوبارہ ملاقات پر غور کر رہے ہیں، جب کہ دونوں فریق اصولی طور پر بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں شپنگ سرگرمیوں کو محدود کرنے جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔