برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے بعض بااثر رہنما اور کارکن ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حق میں ہیں، جبکہ متعدد قدامت پسند شخصیات اسے غیر ضروری اور خطرناک قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کر رہی ہیں۔ پارٹی کے کچھ حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف یہ ممکنہ جنگ دراصل اسرائیل کی جنگ ہے اور امریکا کو براہِ راست اس تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔
معروف امریکی میڈیا شخصیت ٹکر کارلسن نے بھی کھل کر کہا کہ امریکا کو ایران کے ساتھ جاری تنازع سے جلد نکل جانا چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کر کے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی تھی۔
اسی دوران ایک سروے میں ظاہر ہوا ہے کہ تقریباً 54 فیصد امریکی شہری ایران سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں۔ جماعتی بنیادوں پر سروے کے نتائج کے مطابق تقریباً 89 فیصد ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹر جنگ کے مخالف ہیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی میں لگ بھگ 77 فیصد ووٹر اس کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم، ریپبلکن ووٹروں کے اندر بھی واضح تقسیم موجود ہے، جو پارٹی کے لیے مستقبل میں چیلنج بن سکتی ہے۔
معروف پوڈکاسٹر جو روگان نے اس ممکنہ جنگ کو “انتہائی پاگل پن” قرار دیا، اور کانگریس میں بھی اس مسئلے پر شدید اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں۔ ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے ایک ایسا بل پیش کیا جس کے تحت کانگریس کو ایران کے خلاف جنگ کے فیصلوں پر ویٹو کا اختیار حاصل ہوتا، تاہم یہ بل منظور نہیں ہو سکا۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف امریکی کارروائی مزید سخت ہو سکتی ہے، صدر ٹرمپ
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران اب تک کم از کم 13 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں عراق میں طیارہ حادثے میں مارے جانے والے چھ فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا میں جنگ کے حوالے سے یہ اختلافات آئندہ صدارتی انتخابات پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں، اور سیاسی محاذ پر ٹرمپ کی جماعت کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔
اس پیش رفت کے تناظر میں امریکی عوام، میڈیا اور سیاسی حلقے مسلسل جنگ یا امن کے متبادل پر بحث کر رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر کے تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے اور امریکا کی خارجہ پالیسی کی سمت کو اہم چیلنج دے رہی ہے۔







