اوول آفس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگرچہ فوری طور پر جنگ بندی ختم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، تاہم حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتا ہے، ایران کے خلاف فوجی کارروائی پہلے ہی شروع کر دینی چاہیے تھی تاکہ خطے میں موجود خطرات کو بروقت ختم کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور تقریباً 90 فیصد میزائل فیکٹریاں تباہ کر دی گئی ہیں،ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں اور ایرانی معیشت تیزی سے دباؤ کا شکار ہے۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا،ایران اس وقت ایک نئے معاہدے کے لیے بے چین ہے، تاہم وہاں کی قیادت میں عدم استحکام ایک بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ واضح نہیں کہ اصل فیصلہ سازی کس کے ہاتھ میں ہے۔
خطے کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع ختم ہوتے ہی عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں فوری کمی دیکھنے کو ملے گی۔ آبنائے ہرمز سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکا اس راستے پر انحصار نہیں کرتا کیونکہ اس کے پاس اپنے توانائی کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔
ایک غیر متوقع بیان میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو عالمی کھیلوں، خصوصاً فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی جانی چاہیے، کیونکہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ متعدد عالمی تنازعات کو روکنے میں کردار ادا کر چکے ہیں، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بھی شامل ہے،دونوں ممالک کے درمیان صورتحال انتہائی خطرناک ہو چکی تھی اور فضائی جھڑپوں میں کئی طیارے تباہ ہو چکے تھے، تاہم بروقت سفارتی مداخلت سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
مزید پڑھیں: امریکا حالتِ جنگ میں موجود، ایران اب معاہدہ کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، اگر جنگ بندی ختم ہوتی ہے تو اس کے اثرات توانائی کی منڈیوں، عالمی تجارت اور خطے کے سیکیورٹی حالات پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران پہلے ہی غیر ملکی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے خطے میں خودمختاری پر زور دے چکا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔







