بھارتی شہر جے پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن ساتھ ہی اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ جنوبی ایران میں حالیہ امریکی کارروائیوں میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں اور میزائل لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود ایران سے ممکنہ خطرات برقرار ہیں، اسی لیے امریکی افواج کے تحفظ کے لیے دفاعی نوعیت کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں

مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن سفارتکاری کو ہر ممکن موقع دینا چاہتا ہے، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا دیگر آپشنز پر بھی غور کر سکتا ہے۔ ان کے بقول خطے میں استحکام امریکا اور عالمی معیشت دونوں کے لیے ضروری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران سے جاری مذاکرات پر محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت مثبت سمت میں جا رہی ہے، لیکن اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا مزید سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ایک دشمن اسٹیلتھ ڈرون مار گرایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ملک کا دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور وزیر خارجہ نے قطری وزیراعظم سے اہم ملاقات کی، جس میں امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ایران کا ’جوہری خطرہ‘ ختم کرنے پر صدر ٹرمپ سے اتفاق ہو گیا: نیتن یاہو

سفارتی ذرائع کے مطابق قطر اور دیگر خلیجی ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پس پردہ سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ 28 فروری کے بعد امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل، گیس، کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ عالمی منڈی میں بے چینی بھی برقرار ہے۔

یاد رہے کہ  آبنائے ہرمز کی صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔