غیرملکی میڈیا کے مطابق عراقی ایوانِ صدر نے ایک بیان میں گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی قیادت اور عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا اور کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی طرف واپسی پر زور دیا۔
حکومتی ترجمان باسم العوادی کے بیان کے مطابق عراق نے خبردار کرتے ہوئے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جاری عسکری کارروائیاں خطے کو غیر معمولی تشدد کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
عراقی میڈیا کے مطابق نجف اور کربلا میں یومِ سوگ منایا گیا اور دونوں صوبوں میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ ایران نے بھی سپریم لیڈر کی وفات پر 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
عراق کی اعلیٰ شیعہ مذہبی شخصیت علی آل سیستانی نے ایرانی عوام سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ دشمن عناصر ایران کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے، مگر ایرانی عوام کو ثابت قدم رہنا چاہیے۔
عراق کے شیعہ کوآرڈی نیشن فریم ورک نے بھی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ شہید رہنما کا خون نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ بااثر شیعہ رہنما مقتدہ آل صدر نے بھی اسلامی دنیا سے اظہارِ تعزیت کیا اور تین روزہ سوگ کی حمایت کی۔
خیال رہے کہ بغداد کے محفوظ گرین زون میں امریکی سفارتخانہ موجود ہے، ایران نواز مظاہرین نے اتوار کی صبح وہاں احتجاج کیا۔
بعض اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے سفارتخانے کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ صورتحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے، ایرانی سرکاری میڈیا
واضح رہے کہ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں وسیع پیمانے پر حملے کیے گئے جن میں اعلیٰ عسکری و سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ عالمی رہنماؤں نے تحمل اور سفارتی حل کی اپیل کی ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای تقریباً 37 برس تک ایران کے سب سے اعلیٰ سیاسی و مذہبی رہنما رہے۔ ان کی شہادت کی خبر نے نہ صرف ایران بلکہ عراق اور خطے بھر میں گہرے سیاسی اثرات مرتب کیے ہیں اور مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔







