عالمی خبررساں اداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی فضائیہ، بحریہ اور عسکری قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جب کہ اس کی اینٹی ایئر کرافٹ ٹیکنالوجی بھی بری طرح تباہ ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل وہ اقدامات کر رہے ہیں جو برسوں پہلے ہو جانے چاہیئے تھے۔ ایران میں میزائل اور ڈرون بنانے والی تین تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد ایران کی میزائل اور ڈرون بنانے کی صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 100 سے زائد ایرانی بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں، جب کہ ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی بحری صلاحیت کو بھی تقریباً ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے اس مقصد کے لیے ایران کے تقریباً 30 جہازوں کو تباہ کیا ہے، امریکا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو بھی بری طرح نقصان پہنچا رہا ہے، تاہم انہیں اس بات کی تصدیق نہیں کہ ایران نے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں یا نہیں۔
امریکی صدر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے امریکا کا ساتھ دیں اور اپنے بحری جہاز تعینات کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی تیل کی ضرورت کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ آبنائے ہرمز سے حاصل کرتا ہے، جب کہ جاپان اپنی 95 فیصد، چین 90 فیصد اور جنوبی کوریا تقریباً 35 فیصد تیل کی درآمدات اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ مزید تین ہفتے جاری رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے، اسرائیل
امریکی صدر نے کہا کہ اس لیے جن ممالک کو آبنائے ہرمز پر زیادہ انحصار ہے انہیں اس آبی گزرگاہ کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے لیے آگے آنا ہوگا۔ کئی ممالک اس سلسلے میں مدد کے لیے تیار ہیں تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو ایران کے خارک آئل آئی لینڈ پر واقع تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، دو ہفتے قبل تک ایران مضبوط تھا مگر اب وہ کمزور ہو چکا ہے۔







