عالمی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، کئی ایرانی شہر تباہ ہوئے ہیں اور ملک کی اعلیٰ فوجی قیادت کے متعدد اہم افراد جاں بحق جا چکے ہیں۔

ایران کی انقلابی گارڈ کی قیادت ہمیشہ خطرات سے بھرپور رہی ہے۔ مثال کے طور پر اس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کو 2020 میں بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا، جس کا حکم اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا تھا۔

اسی طرح حالیہ جنگ کے آغاز میں انقلابی گارڈ کے سربراہ محمد پاکپور بھی امریکی و اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔ وہ اس سے پہلے اس عہدے پر فائز ہونے والے حسین سلامی کے قتل کے بعد تعینات کیے گئے تھے، جنہیں 2025 کی جنگ کے دوران اسرائیل نے شہید کیا تھا۔

یہ تیزی سے بدلتی قیادت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کے فوجی ڈھانچے میں یہ عہدہ کس قدر خطرات سے گھرا ہوا ہے۔

احمد واحدی کون ہیں؟

احمد واحدی انقلابی گارڈ کے ابتدائی دور کے افسران میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد اس تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور 1980 کی دہائی میں تیزی سے ترقی کرتے ہوئے انٹیلی جنس اور عسکری شعبوں میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وہ 1988 سے 1997 تک انقلابی گارڈ کی خصوصی فورس قدز فورس کے کمانڈر بھی رہے۔ بعد میں انہوں نے یہ ذمہ داری قاسم سلیمانی کے حوالے کی، جنہوں نے 1998 سے 2020 تک اس فورس کی قیادت کی اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ کو وسعت دی۔

احمد واحدی صرف فوجی شخصیت ہی نہیں بلکہ ایرانی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ سابق ایرانی صدر محمود احمد نژاد کے دور میں وزیرِ دفاع رہے، جب کہ بعد ازاں مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کی حکومت میں وزیرِ داخلہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

ان کے کیریئر کے ساتھ کئی تنازعات بھی جڑے رہے ہیں۔ 1994 میں ارجنٹینا کے شہر بیونس آئرس میں یہودی کمیونٹی سینٹر پر ہونے والے بم دھماکے کے کیس میں ارجنٹائن کی درخواست پر انٹرپول نے ان کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کیا تھا۔ ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔

اسی طرح 2022 میں ایرانی خاتون مہسہ امینی کی شہادت کے بعد ہونے والے احتجاج کے دوران سخت حکومتی کارروائی کے باعث امریکا اور یورپی یونین نے بھی ان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

خیال رہے کہ احمد واحدی کو ایسے وقت میں قیادت ملی ہے، جب ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت کو بڑے نقصانات کا سامنا ہے۔ ایران کے سابق سپریم لیڈر سید آیت اللہ علی خامنہ ای بھی جنگ کے آغاز میں شہید ہو چکے ہیں، جس کے بعد ملک کے اداروں کے درمیان ہم آہنگی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران سے جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکا کو 3.7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ

ماہرین کا کہنا ہے کہ واحدی کی حکومتی اور عسکری دونوں شعبوں میں طویل تجربہ انہیں انقلابی گارڈ کی منتشر کمانڈ کو دوبارہ منظم کرنے اور جنگ کے دوران موثر حکمت عملی بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی اسلامی جمہوریہ کی بقا بڑی حد تک انقلابی گارڈ کی کارکردگی پر منحصر ہے اور موجودہ جنگ اس تنظیم کے لیے ایک فیصلہ کن امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔