میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پوپ لیو کی جانب سے جنگ بندی اور تشدد کے خاتمے کے لیے دی جانے والی آواز نے متاثرین کے دکھ کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ والدین نے لکھا کہ “آپ کا پیغام کہ ہتھیار ڈال دیے جائیں، یقیناً دنیا بھر میں سنا جائے گا اور یہ انسانیت کے حق میں ایک اہم قدم ہے۔”

خط میں مزید کہا گیا کہ مناب اسکول پر حملے میں معصوم بچوں، خصوصاً بچیوں کی ہلاکت نے پورے ایرانی معاشرے کو غم اور صدمے میں مبتلا کر دیا ہے، مگر اس کے باوجود عالمی سطح پر اس سانحے کے ذمہ داران کے خلاف مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ متاثرہ خاندانوں نے شکوہ کیا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی واضح معذرت یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔

متاثرہ خاندانوں نے اپنے خط کے ذریعے عالمی رہنماؤں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مذہبی شخصیات سے اپیل کی ہے کہ وہ نہ صرف اس واقعے کی مذمت کریں بلکہ انصاف کے حصول کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھائیں، تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو مناب میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں 160 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ اس واقعے نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی، اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے قومی یومِ دختران کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ مناب اسکول کی شہید ہونے والی بچیوں سمیت تمام متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہم اپنی سرزمین کی بیٹیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس سانحے کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔”

مزید پڑھیں: ایران کو دھمکاکر غیرمنطقی مطالبات پورے کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا: پاکستان میں ایرانی سفیر

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ رمضان کے دوران پیش آیا، جسے انہوں نے “مسلط کردہ جنگ کا ابتدائی دن” قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ حملہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کیا گیا، اور خبردار کیا کہ “ایرانی قوم اپنی بیٹیوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔”

خیال رہے کہ  اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس معاملے پر ردعمل بڑھنے کا امکان ہے،اگر اس طرح کے واقعات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کا تعین نہ کیا گیا تو یہ صورتحال عالمی امن کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔