ہیومن رائٹس واچ کے مطابق شجرہ طیبہ پرائمری اسکول پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمپاؤنڈ کے نزدیک واقع تھا، مگر اسکول الگ دیوار سے گھرا ہوا تھا اور اس کا داخلی راستہ کمپاؤنڈ سے الگ تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسکول کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حملہ انتہائی درست نشانہ لگانے والے گائیڈڈ ہتھیاروں سے کیا گیا، نہ کہ بے قابو ہتھیاروں سے۔
ہیومن رائٹس واچ کی ڈیجیٹل انویسٹیگیشنز لیب کی محقق صوفیہ جونز نے کہا، "اس واقعے کی مکمل تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ آیا ذمہ دار افراد کو معلوم تھا کہ اسکول میں بچے اور اساتذہ موجود ہوں گے۔ غیر قانونی حملوں کے ذمہ دار افراد کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے اور جنگی جرائم میں ملوث ہر فرد کے خلاف مقدمات چلائے جائیں۔"
واضح رہے کہ اس حملے کے بعد ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے اتحاد کو ذمہ دار قرار دیا، جبکہ اسرائیل نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ حملے کے وقت اسکول میں ڈیڑھ سو سے زائد بچے موجود تھے، اور ہیومن رائٹس واچ نے اس واقعے کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران میں ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے، صدر ٹرمپ
اس واقعے پر عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ہولناک واقعات سے بچوں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔







