میڈیا اطلاعات کے مطابق ایران کی یونیورسٹیوں میں طلبہ کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی شناختی تفصیلات جمع کر رہے ہیں۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق تہران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں احتجاجی مظاہرین اور حکومت کے حامی گروہوں کے درمیان جھڑپیں دیکھنے کو ملی ہیں۔

 بی بی سی نے موصول ہونے والی ویڈیو کے حوالے سے کہنا ہے کہ ’پولیس کو یونیورسٹی کے باہر تعینات کیا گیا تھا اور یونیورسٹی کے اپنے سکیورٹی اہلکار سیاہ لباس پہننے والے افراد (مظاہرین) کے نام نوٹ کر رہے تھے۔‘

خیال رہے گذشتہ کئی دنوں سے ایران کے متعدد تعلیمی اداروں میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

شھید بہشتی یونیورسٹی میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے بعد بھی کچھ تصاویر اور ویڈیوز منظرِ عام پر آئی ہیں۔ 

ایک ویڈیو میں یونیورسٹی کیمپس کے اندر ’آزادی، آزادی‘ کے نعرے لگتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ ایک اور ویڈیو میں نعرہ لگ رہا ہے کہ ’ہمیں تماشائی نہیں چاہہیں، ہمارے ساتھ سب شامل ہوں۔‘

تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں بھی ایسی ہی حکومت مخالف احتجاجی ریلیاں دیکھنے میں آئی تھیں، جس کے بعد یونیورسٹی کے صدر مسعود تاجریشی نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے سرکاری پراسیکیوٹر کی خدمات حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مسعود تاجریشی کا کہنا تھا کہ ’پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ یہ اب صرف ایک یونیورسٹی کا معاملہ نہیں رہا اور اب ہمیں اس میں دخل اندازی کرنا پڑے گی۔‘

ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے کے حوالے سے اعلیٰ فوجی قیادت کے خدشات کی رپورٹس مستردی کردیں  یہ بھی پڑھیں: 

یونیورسٹی کے صدر کا کہنا مزید تھا کہ: ’حکومت مخالف اور حکومت کے حامی دونوں گروہوں نے غیرقانونی ریلیاں نکالیں، اس لیے ہم نے دونوں گروہوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اگر دونوں گروہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں تو ہم یہ پابندی اُٹھا لیں گے۔‘

دوسری جانب تہران کی امیر کبیر یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وہ قانون کی پاسداری نہ کرنے والے طلبہ کے معاملے کو جلد ہی حل کرلیں گے۔

ایک بیان میں یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ ’ہماری درسگاہ ریاست کے ستونوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم کی غیرمشروط حمایت جاری رکھے گی۔‘

’پتھراؤ، املاک کو نقصان پہنچانا اور قومی علامتوں کی توہین طلبہ تحریک کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔‘

ایرانی حکومت بھی طلبہ کے احتجاجی مظاہروں پر نظر رکھ رہی ہے۔ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کا کہنا ہے کہ ’طلبہ کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، ان کے دلوں میں زخم ہیں جس کے سبب وہ غصے میں ہیں۔‘

تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ ’مقدس مقامات اور ایرانی پرچم دو سُرخ لکیریں ہیں، ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ کہیں غصے میں ہم یہ لکیریں عبور نہ کر جائیں۔‘