بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق تقریباً پانچ ہفتوں سے جاری جنگ کے 34ویں روز یہ ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی، جب ایرانی فضائی دفاعی نظام نے دو مختلف کارروائیوں میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کے مطابق ایک جنگی طیارہ ایرانی حدود میں گر کر تباہ ہوا، جس کے عملے میں شامل ایک اہلکار کو بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ دوسرا تاحال لاپتہ ہے۔ لاپتہ اہلکار کی تلاش کے لیے امریکی فوج کی جانب سے ریسکیو آپریشن جاری ہے، تاہم اس دوران ایرانی اور امریکی افواج کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک امریکی A-10 Thunderbolt II طیارہ خلیج میں مار گرایا گیا، جو گر کر تباہ ہو گیا۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی ملک کے فضائی دفاعی نظام کی بروقت کارروائی کا نتیجہ ہے۔

ایرانی ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ایک اور امریکی F-15 Eagle طیارہ بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حوالے سے امریکی حکام نے فوری طور پر تصدیق یا تردید نہیں کی۔ ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ طیارہ فنی خرابی کے باعث تباہ ہوا یا اسے واقعی مار گرایا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے ایران کو بری طرح کمزور کر دیا ہے۔ تاہم تازہ واقعات نے اس دعوے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور جنگ کی شدت میں اضافے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی ہے کہ صدر کو مکمل بریفنگ دی جا چکی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ تصادم میں شدت: امریکی جنگی طیارے مار گرائے گئے، لاپتہ عملے کی تلاش شروع

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایک طیارے کے نقصان سے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے،جنگی حالات میں ایسے واقعات غیر معمولی نہیں ہوتے

واضح رہے کہ امریکہ نے اپنی اس کارروائی کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا ہے جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ قرار دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری اس تنازع نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے، خصوصاً خلیج میں تیل کی ترسیل اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر امریکی طیاروں کی تباہی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ جنگ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے بعد فریقین کے درمیان براہ راست تصادم کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔