عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی افواج نے اپنے روایتی فوجی اڈوں سے نکل کر شہری علاقوں اور ہوٹلوں میں منتقل ہونا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث ایسے مقامات بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو گئے جو آبادی کے قریب واقع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے صرف ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی افواج یا ان کی تنصیبات موجود تھیں۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ بعض اہداف شہری آبادی کے قریب ہونے کے باعث اس کے اثرات عام لوگوں تک بھی پہنچے، جس سے خطے کے ممالک اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کی ذمہ داری مکمل طور پر امریکا پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی کشیدگی اور جنگی صورتحال کا آغاز بھی امریکی اقدامات کے نتیجے میں ہوا۔

مزید پڑھیں: ایران کی قومی سلامتی کے سیکرٹری علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں شہید

انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کے شہری علاقوں کے قریب ہونے والے حملے دراصل امریکی حکمت عملی کا نتیجہ ہیں، کیونکہ امریکی افواج کی شہری علاقوں میں موجودگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری اور دفاع کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا،خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر ملکی افواج اپنی سرگرمیوں پر نظرثانی کریں اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جائے۔

ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات خلیجی خطے تک پھیل رہے ہیں، جس سے نہ صرف سکیورٹی صورتحال متاثر ہو رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور معیشت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضع رہے کہ اس قسم کے بیانات خطے میں سفارتی تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ موجودہ حالات میں مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔