بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے۔
اسرائیلی ویب سائٹ دی یروشلم پوسٹ نے 11 جنوری کو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل اس امکان کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے کہ امریکا ایران میں حکومت مخالف تحریک کی حمایت کے لیے مداخلت کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا حملہ کرتا ہے تو تہران اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ’جائز اہداف‘ تصور کرے گا۔
ادھروائی نیٹ ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے 10 جنوری کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی حکام بارہا مظاہروں کو ’فسادات‘ اور ’امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ مسلح دہشت گردوں‘ کی کارروائیاں قرار دے چکے ہیں۔
9 جنوری کو صدر ٹرمپ نے ایرانی حکام کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر وہ لوگوں کو اسی طرح قتل کرنا شروع کریں جیسے ماضی میں کیا ہے تو ہم مداخلت کریں گے۔‘
یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بھی کچھ عرصہ تک جنگ جاری رہی۔







