اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں صدارتی دفتر اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے دفاتر پر متعدد بم گرائے۔ ٹیلی گرام پر جاری بیان میں اسرائیلی ڈیفینس فورسز کا کہنا تھا کہ فضائیہ نے ایرانی حکومت کی قیادت کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک عسکری تربیت گاہ اور حکومت کے دیگر اہم انفراسٹرکچر کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں ایک کارروائی کے دوران ایک سینئر ایرانی کمانڈر کو ہدف بنایا گیا، تاہم فوری طور پر ہدف کی شناخت یا کارروائی کے نتائج سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لبنان میں فضائی حملے تیز کر دیے ہیں اور ملک کے جنوبی حصے میں نئی زمینی دراندازی شروع کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی فوج کے ترجمان نے 80 سے زائد دیہات اور قصبوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقے خالی کرنے کی ہدایت کی۔
فہرست میں البیاضہ، المنصوری اور یتر سمیت متعدد علاقے شامل ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ فہرست میں شامل مقامات سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور چلے جائیں اور واپس نہ آئیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جو افراد حزب اللہ کے عناصر یا مراکز کے قریب ہوں گے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوگا۔
مزید پڑھیں: ایرانی حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی، واضح کیا تھا کہ ہماری زمینی اور فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی: سعودی عرب
ادھر سعودی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے پر دو ڈرون حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں محدود نوعیت کی آگ بھڑک اٹھی اور معمولی نقصان ہوا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، لبنان اور خلیجی خطے میں پھیلتی یہ جھڑپیں ایک وسیع علاقائی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔







