عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر نے منگل کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام دیتے ہوئے کہاکہ ایرانی محبِ وطنو! احتجاج جاری رکھو، اپنے اداروں پر کنٹرول حاصل کرو، مدد راستے میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں اس وقت تک کے لیے منسوخ کر دی ہیں جب تک مظاہرین کے ’بے مقصد قتل‘ بند نہیں ہو جاتے۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی مذہبی قیادت نے حالیہ برسوں کے سب سے بڑے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کر دیا ہے، جب کہ اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد ایران پر عالمی دباؤ بھی بڑھ چکا ہے۔
ایران میں جاری احتجاجات کی بنیادی وجہ سنگین معاشی بحران بتایا جا رہا ہے، تاہم یہ مظاہرے اب حکومت مخالف تحریک کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جو گزشتہ کم از کم تین برسوں میں ایرانی حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا داخلی چیلنج قرار دیے جا رہے ہیں۔
ٹرمپ کے بیان کے ردِعمل میں ایران کی اعلیٰ سلامتی قیادت کے رکن علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایرانی عوام کے ’اصل قاتل‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق مظاہروں کے دوران اب تک تقریباً 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو کہ دو ہفتوں سے زائد جاری ملک گیر احتجاج کے دوران پہلی مرتبہ مجموعی ہلاکتوں کا سرکاری اعتراف ہے، تاہم اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم HRANA کا دعویٰ ہے کہ اس نے 2 ہزار 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جن میں سے 1850 مظاہرین تھے، جب کہ 16 ہزار 784 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے قتل عام کے اصل ذمہ دار ٹرمپ اور نیتن یاہو ہیں، سیکرٹری ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل
ادھر امریکی صدر نے پیر کی شب اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک کی مصنوعات پر 25 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
چین نے امریکی اقدام پر فوری تنقید کی، جبکہ ایران تاحال سرکاری ردِعمل سامنے نہیں لا سکا۔ یاد رہے کہ سخت امریکی پابندیوں کے باوجود ایران اپنی زیادہ تر تیل کی برآمدات چین کو کرتا ہے، جب کہ ترکی، عراق، متحدہ عرب امارات اور انڈیا بھی اس کے اہم تجارتی شراکت دار ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ احتجاج کے دوران بھی امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف سے رابطہ برقرار رکھا گیا اور واشنگٹن کی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم ایرانی حکام مسلسل امریکا اور اسرائیل پر احتجاج کو ہوا دینے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
روس نے بھی ایران کے داخلی معاملات میں ’تخریبی بیرونی مداخلت‘ کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ برس کی طرح امریکی حملوں کا اعادہ مشرق وسطیٰ اور عالمی سلامتی کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔
دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے ایرانی سفیروں کو طلب کر کے کریک ڈاؤن پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے یہاں تک کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایرانی حکومت کے ’آخری دن اور ہفتے‘ شروع ہو چکے ہیں، تاہم انہوں نے اس پیش گوئی کی بنیاد واضح نہیں کی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے جرمن قیادت کے بیان کو دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل دیا ہے۔
ایران میں احتجاجات 28 دسمبر کو کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے بعد شروع ہوئے تھے، جو اب نظامِ حکومت کے خاتمے کے نعروں تک جا پہنچے ہیں۔ ایرانی حکومت ایک طرف سخت کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب معاشی مطالبات کو ’جائز‘ بھی قرار دے رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ بندش، مواصلاتی پابندیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ عدلیہ نے احتجاجی معاملات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کر دی ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر عوامی بے چینی کا حل تلاش نہ کیا گیا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔







