ایران کے سپریم لیڈر  نے سوشل میڈیا پر جای  اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی بحریہ ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر دشمن کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دشمن کو کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،ایران کی مسلح افواج نہ صرف ملکی دفاع بلکہ خطے میں استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے میڈیا بریفنگ کے دوران امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں سے متعلق اقدامات کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات تضاد کا شکار ہیں،ایک جانب مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،اس طرح کے بیانات عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

ان  کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی دفاعی حکمت عملی صرف اپنے مفادات تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران سے متعلق اچھی خبر آ رہی ہے، کل کسی ’سرپرائز‘ کا امکان موجود ہے، صدر ٹرمپ

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، تاہم اگر ایران پر کوئی جنگ مسلط کی گئی تو ملک اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے گا،ایرانی عوام اور افواج اپنے ملک کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ  ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ بیانات اور اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں، جبکہ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، آنے والے دنوں میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ سکتی ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ تصادم کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔