برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ گفتگو میں انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ نے ایک جہاز کو تحویل میں لے کر اس پر موجود کارگو اور تیل بھی قبضے میں لیا۔ یہ کارروائیاں نہ صرف اسٹریٹجک نوعیت کی ہیں بلکہ اس سے امریکا کو معاشی فائدہ بھی حاصل ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم قزاقوں کی طرح ہیں، لیکن ہم کوئی کھیل نہیں کھیل رہے‘، جسے ناقدین کی جانب سے ایک غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیان قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے اور کئی حلقوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
Trump: "We Are Like Pirates!"
— Tasnim News Agency (@Tasnimnews_EN) May 2, 2026
The US president openly admits his government operates like pirates, seizing ships, cargo, and oil.
He stated:
"We boarded the deck, took over the ship, seized the cargo, and took the oil." pic.twitter.com/Tah9Cd2St3
امریکا نے ایران سے منسلک متعدد جہازوں کو مختلف سمندری راستوں پر روکا یا قبضے میں لیا ہے، جن میں ایسے ٹینکرز بھی شامل ہیں جن پر پہلے ہی پابندیاں عائد تھیں،خلیجی اور ایشیائی پانیوں میں بھی ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نگرانی اور بعض صورتوں میں روک تھام کا عمل تیز کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی ترسیل کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی اہم سمندری راستے سے گزرتا ہے۔
یہ کشیدگی 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مبینہ حملوں کے بعد شدت اختیار کر گئی، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس دوران لبنان میں بھی اسرائیلی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔
واضح رہے اس تنازع کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی معیشت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کیساتھ مسلح کشیدگی ختم ہو گئی، ٹرمپ کا کانگریس کو خط
امریکا کے اندر بھی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے بیانات اور اقدامات خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتے ہیں۔ خاص طور پر اس بیان کے بعد کہ امریکا ایرانی تہذیب کو نشانہ بنا سکتا ہے، انسانی حقوق کے اداروں اور قانونی ماہرین نے اسے ممکنہ جنگی جرائم کے تناظر میں بھی دیکھا ہے۔
یاد رہے کہ کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں کسی بھی فریق کی جانب سے مزید جارحانہ اقدام پورے خطے کو بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔







