جرمن شہر مارسبرگ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مرز نے کہا کہ ایسے تنازعات میں مسئلہ صرف داخل ہونا نہیں بلکہ باہر نکلنا بھی ہوتا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے افغانستان جنگ اور عراق جنگ کی مثالیں دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام انتہائی مہارت سے مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ توقع سے زیادہ مضبوط نظر آ رہے ہیں، جب کہ اسلامی انقلابی گارڈز کور کے کردار کو خاص طور پر نمایاں قرار دیا گیا۔
مرز نے جنگ کے فوری خاتمے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے اثرات جرمنی کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے اور ہمیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے، اس جنگ کے ہمارے معاشی پیداوار پر براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جرمنی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے مائن سویپرز تعینات کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ اقدام جنگ بندی سے مشروط ہوگا۔
دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ یوان وادیفل نے اقوام متحدہ میں جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک جوہری خطرات موجود ہیں، مؤثر دفاعی حکمت عملی ضروری رہے گی۔
مزید پڑھیں: جب آپ بااثر ہوتے ہیں تو لوگ آپ کو نشانہ بناتے ہیں، ٹرمپ
خیال رہے کہ یورپ میں اس تنازع کے باعث توانائی کی فراہمی اور معاشی استحکام سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں، جس کے پیش نظر جرمنی اور فرانس کے درمیان دفاعی تعاون کو بھی مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔







