پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہیگستھ کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ہر حملہ روک سکتے ہیں، لیکن حملہ شروع کرنے سے پہلے ہم نے زیادہ سے زیادہ دفاع اور فورس پروٹیکشن کو یقینی بنایا تھا۔

ہیگستھ نے عندیہ دیا کہ جنگ کا دورانیہ ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی اندازوں سے زیادہ طویل ہو سکتا ہے۔ یہ تنازع چار سے آٹھ ہفتوں یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے، تاہم امریکا کے پاس طویل جنگ کے لیے درکار اسلحہ اور سازوسامان موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ چار ہفتے کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ چھ بھی ہو سکتے ہیں، آٹھ بھی، یا تین بھی۔ بالآخر رفتار اور حکمتِ عملی ہم طے کریں گے۔ دشمن عدم توازن کا شکار ہے اور ہم اسے اسی حالت میں رکھیں گے۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ خطے میں مزید امریکی افواج، جنگی طیارے اور بمبار طیارے پہنچ رہے ہیں، امریکا کامیابی یقینی بنانے کے لیے جتنا وقت درکار ہو لے گا۔

مزید پڑھیں: لبنان میں سفارتخانے پر حملہ ہوا تو دنیا بھر میں اسرائیلی سفارتخانے نشانہ ہوں گے، ایران

اسی پریس کانفرنس میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی فوجی بدستور خطرے میں ہیں اور خطرات کی سطح اب بھی بلند ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اعلیٰ دفاعی حکام پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اس جنگ میں مزید امریکی جانی نقصان کا خدشہ ہے اور یہ تنازع کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کو کویت میں ایک ایرانی ڈرون حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ حملہ ایک شہری بندرگاہ کے اندر قائم آپریشنز سینٹر پر کیا گیا، جو مرکزی فوجی اڈے سے چند میل کے فاصلے پر تھا،  یہ مرکز کنٹینر طرز کی عمارت پر مشتمل تھا جس میں دفاعی حفاظتی نظام موجود نہیں تھا۔

دوسری جانب تہران نے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اور معاشی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے جلد ختم ہونے کے آثار نہیں ہیں اور یہ مزید پھیل سکتی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے کہا تھا کہ فوجی مہم ممکنہ طور پر چار سے پانچ ہفتے جاری رہے گی، تاہم وہ اس سے زیادہ طویل کارروائی کے لیے بھی تیار ہیں۔