ریاستی میڈیا کے مطابق دو دیگر ملزمان کو بھی دہشت گردی اور جاسوسی سے متعلق سرگرمیوں میں ایرانی فورسز کے ساتھ تعاون کے جرم میں تین، تین سال قید کی سزا دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق بحرینی حکام نے الزام عائد کیا کہ بعض ملزمان نے ایران کی پاسدرانِ انقلاب کے لیے بحرین کے حساس اور اہم مقامات کی تصاویر بنائیں، جب کہ کچھ افراد پر ایران سے بحرین رقوم منتقل کرنے، حتیٰ کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے فنڈنگ کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے۔
حکام کے مطابق ان افراد نے مبینہ طور پر ملک کے اندر لوگوں کو بھرتی کرکے مختلف منصوبوں میں معاونت بھی فراہم کی۔
بحرین میں ایران سے مبینہ روابط رکھنے والے افراد کے خلاف کریک ڈاؤن اس وقت تیز ہوا جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی۔ ایران نے اس دوران خلیجی ممالک میں امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔
بحرینی حکام نے مارچ میں متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا، جب کہ رواں ماہ مزید 41 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔
اس کے علاوہ دو ہفتے قبل 60 سے زائد افراد کی شہریت بھی اس الزام میں منسوخ کر دی گئی کہ انہوں نے ایران کے حملوں کی حمایت کی اور غیر ملکی عناصر کے ساتھ تعاون کیا۔
لندن میں قائم بحرین انسٹی ٹیوٹ فار رائٹس اینڈ ڈیموکریسی نے اس اقدام کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں: جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے مرحلے میں ہیں، اسماعیل بقائی
دوسری جانب دیگر خلیجی ممالک میں بھی ایران سے مبینہ روابط رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ ماہ یواے ای نے ایک ایسے گروپ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو مبینہ طور پر دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
خیال رہے کہ بحرین میں شیعہ آبادی کی بڑی تعداد موجود ہے اور وہاں کے بعض شیعہ شہری طویل عرصے سے سیاسی اور معاشی امتیاز کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، تاہم بحرینی حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ایران پر ملک میں بے چینی پھیلانے کا الزام لگاتی ہے۔







