برطانوی اخبار آئی پیپر کے مطابق وزارتِ دفاع کا ماننا ہے کہ یورپ میں روس کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں یہ اسکیم نوجوانوں کے لیے فوجی کیریئر کو مزید پرکشش بنا سکتی ہے۔

برطانوی ریڈیو ایل بی سی کے مطابق یہ پروگرام ابتدائی طور پر 2026 کے اوائل میں 18 سے 25 سال کی عمر کے تقریباً 150 نوجوانوں کے لیے کھولا جائے گا، جب کہ مستقبل میں طلب کے مطابق سالانہ ایک ہزار سے زائد نوجوانوں تک اس دائرہ کار کو بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس اسکیم کے تحت شامل نوجوانوں کو کسی بھی فعال جنگی آپریشن میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔ اگرچہ تنخواہوں کی حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم امکان ہے کہ انہیں بنیادی فوجی بھرتی کے برابر معاوضہ دیا جائے گا، جو سالانہ تقریباً 26 ہزار پاؤنڈ (35 ہزار ڈالر) بنتا ہے۔

ذرائع کے مطابق آرمی میں شامل نوجوانوں کو دو سالہ پروگرام کے دوران 13 ہفتوں کی بنیادی تربیت دی جائے گی، نیوی کا پروگرام ایک سال پر مشتمل ہوگا، جب کہ رائل ایئر فورس (آر اے ایف) اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے کہا کہ یہ دفاع کے لیے ایک نیا دور ہے اور اس کا مطلب نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کھولنا ہے۔

خیال رہے کہ یہ اعلان برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف ایئر چیف مارشل رچرڈ نائٹن کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے کہا تھا کہ روسی جارحیت کے پیش نظر برطانیہ کے بیٹے اور بیٹیاں ملک کے دفاع کے لیے تیار رہیں۔

رچرڈ نائٹن کا کہنا تھا کہ اگرچہ برطانیہ پر براہِ راست روسی حملے کا امکان کم ہے، تاہم ہائبرڈ خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے برطانیہ کے قریب زیرِ سمندر کیبلز کی مبینہ نگرانی کرنے والے روسی جاسوس جہاز کے واقعے اور روزانہ کی بنیاد پر سائبر حملوں کا بھی حوالہ دیا۔

لازمی پڑھیں: برطانیہ کا ڈیمارش پر ردعمل؛ اگر برطانیہ میں کوئی جرم ہوا ہے تو پولیس کو شواہد دیں

واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے رواں سال اعلان کیا تھا کہ دفاع اور سلامتی کے اخراجات 2035 تک مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 5 فیصد تک بڑھائے جائیں گے۔