امریکی عدالت نے 94 سالہ راؤل کاسترو سمیت چھ افراد پر 1996 میں دو طیارے مار گرائے جانے کے واقعے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

اس واقعے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں تین امریکی شہری شامل تھے۔ یہ طیارے کیوبا مخالف گروپ برادرز ٹو دی ریسکیو چلا رہا تھا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا کو ہر وقت طاقت کی دھمکیاں دینے اور عدالتی نظام کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ چین کیوبا کی خودمختاری اور وقار کے تحفظ میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے امریکی الزامات کو  سیاسی چال  قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کوئی قانونی جواز نہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ مہینوں میں کیوبا پر دباؤ میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ امریکا نے کیوبا کے توانائی، دفاع، مالیات اور سیکیورٹی شعبوں سے وابستہ افراد پر نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں، جب کہ تیل کی فراہمی محدود ہونے کے باعث کیوبا میں بجلی کی بندش اور خوراک کی قلت میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں، معاہدہ نہ ہوا تو مزید حملے ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

چین، جو گزشتہ برسوں میں کیوبا کا قریبی اتحادی بن چکا ہے، نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ کیوبا کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔

2018 میں کیوبا نے چین کے  بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو  میں شمولیت اختیار کی تھی، جس کے تحت جزیرے میں متعدد انفراسٹرکچر منصوبوں پر کام ہوا۔