سوئٹزرلینڈ میں پریس کانفرنس کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر اپنے ملک کا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق کسی بھی فیصلے میں فلسطینی عوام کی مرضی اور خواہشات کا احترام کیا جانا ضروری ہے۔

لن جیان کا کہنا تھا کہ فلسطینی، فلسطین پر خود حکومت کریں، یہ اصول عالمی برادری کا متفقہ مؤقف ہے اور اسی بنیاد پر امن کی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں۔

ترجمان چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ چین ان تمام اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے جو امن کے قیام اور انسانی جانیں بچانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں جاری انسانی بحران اکیسویں صدی پر ایک بدنما داغ ہے اور عالمی برادری کو اب ضمیر کے ساتھ آگے بڑھ کر حقیقی، جامع اور پائیدار جنگ بندی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہییں۔

مزید پڑھیں: غزہ امن معاہدے پر باضابطہ دستخط: 'ہمیں اس مقام تک پہنچنے میں 500 سے 3000 سال کے درمیان کا عرصہ لگا ہے'، ڈونلڈ ٹرمپ

لن جیان نے کہا کہ دو ریاستی حل پر ثابت قدم رہنا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ صرف ایک آزاد فلسطینی ریاست ہی اپنے جائز قومی حقوق حاصل کر کے تاریخی ناانصافیوں اور تشدد کی بنیادوں کا خاتمہ کر سکتی ہے۔