برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ چارلس کا متوقع سرکاری دورہ واشنگٹن اپریل میں ہونا تھا، تاہم ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد اس دورے پر غیر یقینی کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا اور عوامی بیانات میں برطانیہ کو ‘ایک وقت کا عظیم اتحادی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو ایران کے خلاف اپنی مہم میں برطانوی حمایت کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا پہلے ہی کامیابی حاصل کر چکا ہے۔
برطانیہ کی لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما سر ایڈ ڈیوی نے وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے مطالبہ کیا کہ وہ بادشاہ کو اپریل میں ہونے والے دورے پر نظرثانی کا مشورہ دیں۔ لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ریچل ماسکل نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اس دورے کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی جاری جنگ پر براہِ راست بات چیت نہ ہو، اسے مؤخر کر دینا چاہیے۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ طویل ہو سکتی ہے، دورانیہ ہم طے کریں گے: امریکی وزیر دفاع
گرین پارٹی کی نائب رہنما ریچل ملورڈ نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں شاہی دورہ ‘ناقابلِ تصور’ ہے۔
یہ تنازع اس وقت مزید بڑھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے برطانیہ کی ممکنہ فوجی مدد کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا، ‘ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔’
دریں اثنا برطانوی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ ڈاؤننگ اسٹریٹ نے تصدیق کی ہے کہ کیئر اسٹارمر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گفتگو ہوئی جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور رائل ایئر فورس کے اڈوں کے ذریعے جاری عسکری تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔







