ڈونلڈ ٹرمپ کا برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے امریکی ٹیک کمپنیوں پر ٹیکس عائد کرنا غیر منصفانہ اقدام ہے،امریکا  اپنی کمپنیوں کے مفادات کا ہر صورت تحفظ کرے گا۔

امریکی صدر نے برطانوی وزیراعظم سر کئیر اسٹارمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیجیٹل سروس ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو امریکا جوابی کارروائی کے طور پر تجارتی محصولات میں نمایاں اضافہ کرے گا، جس کے اثرات براہ راست برطانوی برآمدات پر پڑیں گے۔

یاد رہے کہ اس بیان سے دونوں اتحادی ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ 

واضح رہے کہ اگر امریکا واقعی ٹیرف عائد کرتا ہے تو اس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت متاثر ہوگی بلکہ دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر نے ایک سوال کے جواب میں روس سے متعلق بھی اظہار خیال کرتے ہوئے  کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ آیا روس کو آئندہ جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے یا نہیں، تاہم اگر ولادیمیر پیوٹن اجلاس میں شریک ہوتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: جنگ بندی میں مزید توسیع نہیں چاہتا، ایران کا معاملہ بڑی ڈیل کے ساتھ ختم ہو جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں کہ روسی صدر اجلاس میں شرکت کریں گے، لیکن ان کی موجودگی عالمی معاملات پر بات چیت کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

خیال رہے  کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان ڈیجیٹل ٹیکس کا تنازع آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، اور اگر معاملہ حل نہ ہوا تو اس کے عالمی تجارتی نظام پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔