غیر ملکی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق ملک کے موسمیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ فانگ وونگ کی رفتار 185 کلومیٹر فی گھنٹہ اور تیز ہواؤں کی شدت 230 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ طوفان اب تک فلپائن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے اور اس کا دائرہ 1600 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، جو ملک کے دو تہائی حصے کو کور کرتا ہے۔

فلپائن میں 185 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ کی رفتار والی طوفانی ہواؤں کو سپر ٹائیفون قرار دیا جاتا ہے تاکہ عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جا سکے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کے سبب اس قسم کے شدید طوفانوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سپر ٹائیفون فانگ وونگ کے باعث شمالی صوبوں میں اسکول اور سرکاری دفاتر منگل تک بند رہیں گے، جب کہ 325 گھریلو اور 61 بین الاقوامی پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بیکول انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور میٹرو منیلا کے سانگلے ایئرپورٹ سمیت کئی ائرپورٹس کو بند کر دیا ہے۔

بجلی کی فراہمی مشرقی صوبوں میں بند کر دی گئی ہے اور کم از کم 109 بندرگاہوں سے سمندری آمدورفت روک دی گئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ 20 سے زائد صوبوں بشمول میٹرو منیلا، میں 3 میٹر (10 فٹ) تک کا طوفانی لہروں کا خطرہ ہے۔

مزید پڑھیں: جوہری تجربات دوبارہ شروع، روسی وزیرِ خارجہ نے تصدیق کردی

فلپائن کے دفاعی وزیر گلبرٹو تیوڈورو جونیئر نے کہا ہے کہ فانگ وونگ کے اثرات مہلک ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وہ علاقے جو پہلے ہی طوفان کالمایگی سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ سرکاری ہدایات اور ایمرجنسی انخلا کے حکم پر فوری عمل کریں تاکہ بچاؤ ممکن ہو سکے۔

آفس آف سول ڈیفنس کے مطابق تقریباً 30 ملین افراد اس طوفان کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ فلپائن ہر سال تقریباً 20 طوفانوں کا سامنا کرتا ہے اور نومبر 2013 میں سپر ٹائیفون ہائیان میں 6,300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔