فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ یورپی ملکوں کے تحفظ کے لیے موجودہ عالمی صورتحال غیر یقینی ہے اور اس وجہ سے فرانس اپنے اسٹریٹجک جوہری ذخائر میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد فرانس کی خودمختاری اور یورپ میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب، روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کریملن نے بھی ایران کی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے کی تصدیق کی اور کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے عرب پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا کے پاس دنیا کے جدید اور بہترین اسلحے کے وسیع ذخائر موجود ہیں:صدر ٹرمپ
علاوہ ازیں، جرمنی نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا، جبکہ نیٹو نے بھی اس تنازع میں شمولیت سے انکار کر دیا، جس سے عالمی سطح پر فوجی مداخلت کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔
واضع رہے کہ فرانس کا یہ فیصلہ نہ صرف یورپ میں سکیورٹی خدشات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحران میں عالمی طاقتوں کے ردعمل کا بھی آئینہ دار ہے۔







