عالمی خبررساں اداروں کے مطابق ملاقات مصر کے شہر العلمین میں ہوئی، جس میں امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے ڈائریکٹر نکولے ملادینوف بھی شریک تھے۔ ملاقات کا مقصد ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے پر موجود اختلافات کو دور کرنا اور جنگ بندی کی کوششوں کو دوبارہ آگے بڑھانا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے فوری نتائج سامنے نہیں آئے۔ تاہم یہ ملاقات حماس کی اعلیٰ قیادت اور ایک سینئر امریکی نمائندے کے درمیان براہِ راست رابطے کی ایک غیر معمولی مثال قرار دی جا رہی ہے۔

جیرڈ کشنر نے مصر میں صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی ملاقات کی، جس میں غزہ میں جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی معاہدے پر تمام فریقوں کی ذمہ داریوں کی تکمیل پر بات چیت کی گئی۔

ذرائع کے مطابق کشنر اور نکولے ملادینوف کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی ملاقات متوقع ہے، جس میں غزہ جنگ بندی اور جنگ کے بعد کے انتظام سے متعلق امریکی منصوبے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے گزشتہ ماہ غزہ کے لیے 15 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں اسرائیلی حملوں کے خاتمے، حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا سمیت مختلف اقدامات شامل تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے منصوبے کے اہم نکات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جائے گی۔

دوسری جانب حماس نے غیر مسلح ہونے کے منصوبے پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم اس کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو پہلے سابقہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

جیرڈ کشنر اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں خلیل الحیہ سے ملاقات کرچکے ہیں۔ اس وقت ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں ایک جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت غزہ میں باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

لازمی پڑھیں: غزہ جنگ بندی منصوبہ، نیتن یاہو سے اختلافات حل کرنے کے لیے کشنر اور ملادینوف اسرائیل جائیں گے

کشنر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں مشرقِ وسطیٰ کے اہم مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں اور خطے کے متعدد عرب رہنماؤں کے ساتھ قریبی سفارتی روابط رکھتے ہیں۔

دریں اثنا اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی جانب سے ٹرمپ کے امن منصوبے سے متعلق روڈ میپ مسترد کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ منصوبے کو مسترد کرنے سے غزہ جنگ کے خاتمے اور دیرپا سیاسی حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔