رپورٹ کے مطابق 2023 سے شروع ہونے والی جنگ اور مسلسل اسرائیلی پابندیوں نے پچھلے 22 سال کی ترقی کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، جب کہ بحران کی شدت 1960 کے بعد دنیا کے دس بدترین معاشی بحرانوں میں شمار کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں تباہ شدہ انفرا اسٹرکچر، پیداواری وسائل، اور بنیادی عوامی خدمات کے مفلوج ہونے سے خطے میں کئی دہائیوں کی سماجی و معاشی ترقی الٹ گئی ہے۔ غزہ کا معاشی بحران دنیا بھر میں کبھی ریکارڈ ہونے والے تمام بحرانوں سے زیادہ شدید ہے۔

اقوامِ  متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کے مطابق 2024 کے اختتام تک فلسطینی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 2010 کی سطح پر واپس آگئی، جب کہ فی کس آمدن 2003 کی سطح تک گر گئی۔ رپورٹ نے بتایا کہ دو برسوں میں غزہ کی معیشت 83 فیصد سکڑ گئی اور مجموعی طور پر نقصان 87 فیصد تک پہنچ گیا، جس کے بعد غزہ کی GDP صرف 362 ملین ڈالر رہ گئی۔ فی کس آمدن گھٹ کر 161 ڈالر رہ گئی، جو دنیا میں سب سے کم ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 2.3 ملین افراد مسلسل محاصرے، نقل و حرکت کی پابندیوں اور وسائل تک محدود رسائی کے باعث شدید غربت اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

UNCTAD نے خبردار کیا کہ غزہ میں تباہ شدہ انفرا اسٹرکچر، ہجرت، اور انسانی وسائل کے نقصان نے ایسے مستقل زخم چھوڑے ہیں جنہیں بھرنے میں دہائیوں کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ تعلیم، صحت، پانی اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات بُری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو کی لاگت 70 ارب ڈالر سے زائد ہو چکی ہے، جب کہ موجودہ حالات میں بین الاقوامی امداد کے بغیر معیشت کا سنبھلنا ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فورسز کی جنگ بندی معاہدے کی پھر سے خلاف ورزی، مزید 23 فلسطینی شہید

واضح رہے کہ مقبوضہ ویسٹ بینک کی صورتحال بھی بدترین ہے جہاں اسرائیلی چیک پوسٹس، نقل و حرکت کی پابندیوں اور بسنے والوں کی توسیع نے معیشت کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ویسٹ بینک کی GDP میں 17 فیصد کمی آئی، جبکہ فی کس آمدن تقریباً 2014 کے برابر جاپہنچی ہے۔

UNCTAD نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ معاشی تباہی کو روکنے، انسانی بحران ختم کرنے اور پائیدار امن کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ادارے نے زور دیا کہ ترقی اور استحکام کے لیے پابندیوں میں نرمی، مالی وسائل کی بحالی اور مربوط عالمی امداد ناگزیر ہے۔