اسرائیلی حکومت کی ترجمان شوش بیدروسیان کے مطابق یرغمالیوں کو پہلے ریڈ کراس کے حوالے کیا جائے گا، جو انہیں غزہ کے اندر واقع ایک اسرائیلی فوجی اڈے پر لے جائے گا، جہاں ان کے ابتدائی طبی معائنے کیے جائیں گے۔ اس کے بعد انہیں اپنے اہلِ خانہ سے ملنے کے لیے اسرائیل منتقل کیا جائے گا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ جیسے ہی اسرائیل کو اس بات کی تصدیق ہو جائے گی کہ تمام یرغمالی اسرائیلی حدود میں پہنچ گئے ہیں، فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، جن میں سے 250 افراد عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ تاہم فلسطینی رہنما مروان برغوثی کی رہائی اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔ اسرائیل نے مغربی کنارے میں قیدیوں کے اہلِ خانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ رہائی کے بعد تقریبات یا میڈیا سے گفتگو سے گریز کریں۔
ترجمان نے بتایا کہ اسرائیل 28 یرغمالیوں کی لاشیں وصول کرنے کی تیاری بھی کر رہا ہے، جن کے بارے میں تصدیق ہو چکی ہے کہ وہ قید کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ تبادلہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیلی کابینہ نے تین روز قبل جنگ کے خاتمے کے لیے پہلے مرحلے کے معاہدے کی منظوری دی تھی اور اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے اس معاہدے میں مرکزی کردار ادا کیا، اسرائیل کے دورے پر پہنچنے والے ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ کے امن معاہدے کے لیے مصر جانے کا اعلان: 'ہم ایک ڈیل کے بہت قریب ہیں'
عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی نامہ نگار نور عودہ کا عمان سے رپورٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہیہ ٹرمپ کا شو ہے، کیونکہ نیٹ ورک کو اسرائیل میں کام کرنے پر پابندی کا سامنا ہے۔ ٹرمپ اسرائیل میں یرغمالیوں کے اہلِ خانہ سے ملاقات کریں گے، کنیسٹ سے خطاب کریں گے اور پھر مصر کے شرم الشیخ جائیں گے، جہاں 20 سے زائد ممالک کے رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوگا۔
معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج نے غزہ شہر اور شمالی علاقوں سے اپنی افواج جزوی طور پر واپس بلا لی ہیں، تاہم وہ اب بھی غزہ کے نصف سے زائد علاقے پر قابض ہیں۔
غزہ میں تباہ شدہ علاقوں میں واپس آنے والے فلسطینیوں نے اپنے علاقوں کو "ویران بستیاں" قرار دیا ہے۔ انسانی امداد کے چند ٹرک اتوار کو غزہ میں داخل ہوئے ہیں لیکن امدادی تقسیم کا عمل سست ہے۔
الجزیرہ کی نامہ نگار ہند خوداری نے بتایا کہ لوگ صرف کھانے کے لیے نہیں بلکہ خیمے، شمسی پینل، ادویات اور طبی آلات کے لیے بھی بے تاب ہیں۔ بیشتر شہریوں کی جمع پونجی ختم ہو چکی ہے اور وہ مکمل طور پر امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔
پیر کو شرم الشیخ میں ہونے والا غزہ امن اجلاس امریکی صدر ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوگا، جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت متعدد عالمی رہنما شریک ہوں گے۔
اگرچہ اسرائیل اور حماس اس اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، مصر نے اسے "تاریخی موقع" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس کے دوران غزہ میں جنگ کے خاتمے کا دستاویز دستخط ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور حماس کا ٹرمپ کے تجویز کردہ غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کے بعد اصل چیلنج غزہ کی بحالی، نیا انتظامی ڈھانچہ اور سیکیورٹی نظام کی تشکیل ہوگا۔ قطر یونیورسٹی کے پروفیسر عدنان حیجنہ کے مطابق غزہ کی موجودہ حالت زلزلے کے بعد کے مناظر جیسی ہے، کوئی حکومت نہیں، کوئی اسکول نہیں، کچھ بھی باقی نہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی تسلیم کیا کہ استحکام کا سفر طویل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے مستقل دباؤ اور امریکی قیادت کی مسلسل توجہ درکار ہوگی۔







