عالمی خبررساں اداروں کے مطابق چین میں روسی سفارت خانے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریابکوف کا کہنا تھا کہ اگر امریکی حکام گرین لینڈ کے خطے میں ہتھیاروں کے نظام نصب کرنے یا گولڈن ڈوم منصوبے کے کسی حصے کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ ایسی صورتحال ہوگی جس کے جواب میں روسی ماہرین مکمل طور پر تیار ہوں گے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہم مناسب فوجی اور تکنیکی اقدامات کریں گے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ ماہ کے اس دعوے کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ گرین لینڈ سے متعلق گولڈن ڈوم میزائل دفاعی منصوبے پر بات چیت ہو رہی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ گرین لینڈ پر مستقبل کے ایک ممکنہ معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق ہو چکا ہے۔
نیو اسٹارٹ معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ریابکوف نے کہا کہ روس نے یہ تجویز دی تھی کہ معاہدے کی شرائط پر ایک سال مزید عمل درآمد جاری رکھا جائے تاکہ مستقبل کے لائحہ عمل پر بات ہو سکے، تاہم امریکا کی جانب سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بروقت تمام ضروری اقدامات کر لیے تھے۔ جواب نہ دینا بھی دراصل ایک جواب ہی ہے۔
ریابکوف نے کہا کہ اسٹریٹجک سلامتی پر بات چیت کی بحالی کے لیے امریکا کو روس کے ساتھ اپنے خارجہ پالیسی رویے میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیو اسٹارٹ معاہدے کے خاتمے کے باوجود روس کسی نئی جوہری اسلحہ دوڑ میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا بھارت تجارتی مذاکرات کامیاب، ٹرمپ کا ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے معاہدے کے خاتمے کو دنیا کے لیے انتہائی خطرناک لمحہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے ختم ہونے کے بعد دنیا کی دو بڑی جوہری طاقتیں بغیر کسی باضابطہ پابندی کے رہ جائیں گی، جو عالمی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
خیال رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما اور روسی صدر دمتری میدویدیف کے درمیان طے پایا تھا۔
اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے لیے اسٹریٹجک جوہری وارہیڈز کی تعداد 1,550 تک محدود رکھی گئی تھی، جب کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور بمبار طیاروں کی تعداد پر بھی سخت پابندیاں عائد تھیں۔
ماہرینِ اسلحہ کنٹرول کے مطابق اس معاہدے کے خاتمے سے نہ صرف جوہری ہتھیاروں پر پابندیاں ختم ہو جائیں گی بلکہ باہمی اعتماد، شفافیت اور تصدیقی نظام بھی شدید متاثر ہوگا، جس سے ایک نئی اور غیر محدود جوہری اسلحہ دوڑ کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
روس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ میں میزائل دفاعی نظام یا دیگر فوجی سازوسامان تعینات کیا تو ماسکو اس کا جواب دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔
واضح رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے، جو امریکی اسٹریٹجک مفادات کے باعث حالیہ عرصے میں واشنگٹن کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی قومی سلامتی کے نام پر گرین لینڈ حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، جس کی ڈنمارک، گرین لینڈ اور دیگر یورپی اتحادیوں نے سخت مخالفت کی۔







