امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ڈنمارک کے ساتھ امریکا کے اچھے تعلقات ہیں، تاہم گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر امریکا اس خطے میں اپنی دلچسپی رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیان نے ایک بار پھر گرین لینڈ کے مستقبل سے متعلق بحث کو جنم دے دیا ہے۔

دوسری جانب گرین لینڈ اور ڈنمارک کے وزرائے خارجہ نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کی، جہاں باہمی تعلقات، سیکیورٹی تعاون اور علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد گرین لینڈ کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، تاہم گرین لینڈ کسی صورت امریکی ملکیت بننے پر آمادہ نہیں۔

مزید پڑھیں: ایران میں کن اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا؟ پینٹاگون نے فہرست ٹرمپ کے حوالے کر دی

گرین لینڈ کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ ایک خودمختار خطہ ہے اور اس کی حیثیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا،امریکا کے ساتھ دفاع، معیشت اور دیگر شعبوں میں تعاون ممکن ہے، لیکن ملکیت یا کنٹرول کی بات ناقابل قبول ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل برطانوی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے فوج کو گرین لینڈ پر حملے کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق گرین لینڈ کی اسٹریٹجک محلِ وقوع اور قدرتی وسائل کی وجہ سے امریکا کی دلچسپی کوئی نئی بات نہیں، تاہم گرین لینڈ اور ڈنمارک کی جانب سے بار بار یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ خطے کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اس معاملے پر آئندہ دنوں میں سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔