گزشتہ روز 8 ذوالحجہ کو عازمینِ حج نے منیٰ میں یومِ ترویہ عبادات اور ذکر و اذکار میں گزارا۔ شدید گرمی کے باعث بیشتر حجاج نے دن کا بڑا حصہ خیموں میں قیام کرتے ہوئے گزارا جبکہ شام کے وقت موسم نسبتاً بہتر ہونے پر منیٰ کی گلیوں، راستوں اور عبادت گاہوں میں عازمین کی بڑی تعداد دیکھی گئی۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے لاکھوں مسلمان آج نمازِ ظہر سے قبل میدانِ عرفات پہنچ جائیں گے، جہاں تاریخی مسجد نمرہ میں خطبۂ حج دیا جائے گا۔ خطبۂ حج امامِ مسجد نبوی الشیخ علی عبدالرحمٰن الحذیفی دیں گے، جسے دنیا بھر میں براہِ راست نشر کیا جائے گا۔

وقوفِ عرفہ کو حج کا سب سے اہم رکن قرار دیا جاتا ہے اور اس موقع پر حجاج کرام خصوصی دعاؤں، توبہ و استغفار اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ غروبِ آفتاب کے بعد تمام حجاج مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ کھلے آسمان تلے رات گزاریں گے اور رمی کے لیے کنکریاں جمع کریں گے۔

دوسری جانب سعودی حکومت نے حج کے دوران سیکیورٹی اور سہولیات کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ سعودی حکام کی جانب سے مقدس مقامات کی فضائی نگرانی اور حجاج کے تحفظ کے لیے جدید دفاعی نظام بھی نصب کیے گئے ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز، طبی ٹیمیں اور امدادی اہلکار بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔

سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق منیٰ اور عرفات میں شدید گرمی برقرار ہے اور یومِ عرفہ پر درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ گرمی کی شدت کے پیش نظر سعودی حکام نے سایہ دار مقامات، واٹر مسٹ فینز، کولنگ سسٹمز اور طبی مراکز میں اضافہ کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا بھر سے آئے تقریباً 18لاکھ عازمین حج منیٰ پہنچ گئے

وزارتِ حج و عمرہ نے عازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ پانی استعمال کریں، دھوپ میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور حفاظتی ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔

مقدس مقامات پر اس وقت روحانی کیفیت عروج پر ہے اور مختلف زبانوں، رنگوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان اتحاد و اخوت کی خوبصورت تصویر پیش کر رہے ہیں۔