ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے سرحدی امور کے سربراہ ٹام ہومن کو منی سوٹا بھیج رہے ہیں، جہاں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کے ہاتھوں 37 سالہ نرس اور مظاہرین میں شامل الیکس پریٹی کی ہلاکت کے بعد شدید احتجاج جاری ہے۔ٹام سخت مگر منصف مزاج ہیں اور براہِ راست مجھے رپورٹ کریں گے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ منی سوٹا میں 20 ارب ڈالر سے زائد کی مبینہ فلاحی فنڈز میں بدعنوانی کی ایک بڑی تحقیقات جاری ہیں، جو منظم اور پرتشدد مظاہروں کی جزوی وجہ ہے۔
اسی بیان میں انہوں نے کہا کہ محکمۂ انصاف اور کانگریس کانگریس وومن الہان عمر کے مالی معاملات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، جو مبینہ طور پر صومالیہ سے خالی ہاتھ امریکا آئیں اور اب ان کی دولت 44 ملین ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
منی سوٹا سے امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن الہان عمر کی دولت میں حالیہ برسوں میں اضافہ ان کے شوہر کی مالی حیثیت سے منسوب کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب الہان عمر نے صدر ٹرمپ کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی گرتی ہوئی مقبولیت سے توجہ ہٹانے کے لیے ان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ معذرت ٹرمپ آپ کی حمایت کمزور پڑ رہی ہے اور آپ گھبراہٹ کا شکار ہیں۔ حسبِ توقع آپ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے مجھ پر جھوٹے الزامات اور سازشی نظریات پھیلا رہے ہیں۔ برسوں کی تحقیقات میں کچھ ثابت نہیں ہوا۔ اپنے کارندوں کو منی سوٹا سے نکالیں۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہو۔ گزشتہ ہفتے بھی انہوں نے کہا تھا کہ الہان عمر کے خلاف مالی اور سیاسی جرائم کی تحقیقات فوری طور پر شروع ہونی چاہئیں۔
صومالی نژاد مسلم امریکی کانگریس وومن الہان عمر طویل عرصے سے ٹرمپ کی تنقید کا نشانہ رہی ہیں اور صدر ٹرمپ پر ان کے خلاف اسلاموفوبک زبان استعمال کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ الہان عمر ٹرمپ کی پالیسیوں اور خاص طور پر صومالی کمیونٹی کے خلاف ان کے بیانات کی کھل کر مخالفت کرتی رہی ہیں۔
گزشتہ ماہ ٹرمپ کی جانب سے صومالی کمیونٹی کو کچرا کہنے پر الہان عمر نے ان پر خوفناک حد تک ذاتی دلچسپی رکھنے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ انہیں سخت ضرورت ہے کہ وہ مدد حاصل کریں۔
حالیہ مہینوں میں ٹرمپ بار بار منی سوٹا میں کووڈ کے دوران ہونے والے فلاحی فنڈز کے مبینہ گھپلے کا حوالہ دے رہے ہیں، جس میں متعدد افراد، جن میں کچھ صومالی نژاد افراد بھی شامل ہیں، پر الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے فضائی، زمینی یا بحری حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: متحدہ عرب امارات
اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ نے منی سوٹا میں امیگریشن کریک ڈاؤن شروع کیا، جسے ناقدین نے صومالی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا۔ ان کارروائیوں کے دوران رواں ماہ ایک امریکی شہری رینی گڈ بھی ہلاک ہوئیں، جب کہ الیکس پریٹی کی ہلاکت نے ملک بھر میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔
پریٹی کو امیگریشن اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ کے بعد گولی مار دی گئی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے انہیں گھریلو دہشت گرد قرار دیا، تاہم مختلف زاویوں سے بنائی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ ان کے ایک ہاتھ میں موبائل فون تھا، جب کہ دوسرا ہاتھ خالی اور اوپر اٹھا ہوا تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز سے بات کی ہے اور دونوں ایک مشترکہ سوچ پر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے گورنر والز کو بتایا کہ ٹام ہومن ان سے رابطہ کریں گے اور مقصد ریاست میں موجود جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور گورنر والز منی سوٹا کی بہتری کے لیے ایک ہی مقصد رکھتے ہیں، تاہم ریاست میں جاری مظاہروں اور وفاقی کارروائیوں پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔







