عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اتوار کے روز حماس نے امریکی الزامات کو "بے بنیاد" اور "سیاسی مقاصد پر مبنی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات غزہ میں پہلے سے محدود انسانی امداد کو مزید کم کرنے کا بہانہ ہیں اور اس کا مقصد عالمی برادری کی ناکامی پر پردہ ڈالنا ہے، جو محاصرے اور قحط کے خاتمے میں کچھ نہیں کر سکی۔

بیان میں کہا گیا کہ قبضہ کرنے والی اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد تمام لوٹ مار اور بدامنی کے واقعات فوراً ختم ہو گئے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ افراتفری کی سرپرستی خود قابض قوت نے کی تھی۔

حماس کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی پولیس اہلکار اور سیکیورٹی اہلکار امدادی قافلوں کی حفاظت کے دوران جانیں گنوا چکے ہیں، جب کہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔

تنظیم نے زور دیا کہ کسی بھی بین الاقوامی یا مقامی ادارے، حتیٰ کہ امدادی قافلوں کے ڈرائیوروں نے بھی حماس کی جانب سے لوٹ مار کی کوئی شکایت درج نہیں کرائی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی پیش کردہ فوٹیج جعلی اور سیاسی مقاصد کے لیے تیار کی گئی ہے، تاکہ امداد میں کمی اور محاصرے کو جواز فراہم کیا جا سکے۔

حماس نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے اسرائیلی بیانیہ اپناتے ہوئے غیر اخلاقی جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ براہِ راست غزہ کے محاصرے اور انسانی مصائب میں شریک ہے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ MQ-9 ڈرون جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے پرواز کر رہا تھا اور گزشتہ ہفتے روزانہ 600 سے زائد امدادی اور تجارتی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے، تاہم اس واقعے نے امدادی سرگرمیوں کو نقصان پہنچایا۔

حماس کا کہنا ہے کہ غزہ میں روزانہ داخل ہونے والے حقیقی امدادی ٹرکوں کی تعداد 135 سے زیادہ نہیں، باقی تجارتی ٹرک ہیں جن کا سامان عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کی جنگ بندی کے باوجود غزہ پر وحشیانہ بمباری، 46 بچوں سمیت 104 سے زائد فلسطینی شہید

یاد رہے کہ 10 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ بندی عمل میں آئی تھی، جس کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے 2000 فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک 68 ہزار 500 سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔