ملاقات کے دوران ٹرمپ نے تاکائچی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک جیتنے والی خاتون ہیں اور جاپان کی جانب سے فوجی استعداد بڑھانے کے عزم کا خیرمقدم کیا۔ ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق تاکائچی نے ٹرمپ کی عالمی تنازعات کے حل کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کریں گی۔

دونوں ممالک نے توانائی، مصنوعی ذہانت (AI) اور اہم معدنی وسائل کے شعبوں میں 400 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک اہم معاہدہ بھی طے پایا جس کا مقصد چین کی اجارہ داری کو کم کرتے ہوئے نایاب معدنیات اور اہم الیکٹرانک اجزا کی سپلائی کو مضبوط بنانا ہے۔

امریکی وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں ممالک آنے والے چھ ماہ میں ان منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کریں گے اور ایک مشترکہ ذخیرہ اندوزی کا نظام  بھی تشکیل دیا جائے گا تاکہ سپلائی چین کا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

بعد ازاں ٹرمپ اور تاکائچی نے یوکوسوکا بحری اڈے پر موجود امریکی نیوکلئیر پاور ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس جارج واشنگٹن کا دورہ کیا، جہاں 6 ہزار امریکی ملاحوں سے ملاقات کی گئی۔


ٹرمپ نے کہا کہ یہ خاتون واقعی ایک فاتح ہیں۔ جاپان اور امریکا کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جاپان کے ایف-35 جنگی طیاروں کے لیے امریکی ساختہ میزائلوں کی ترسیل اس ہفتے سے شروع ہو رہی ہے۔

تاکائچی نے امریکی افواج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن صرف الفاظ سے نہیں بلکہ مضبوط ارادے اور عملی اقدامات سے ممکن ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا دورہ جاپان،  دنیا میں کوئی فوج امریکی فوج جیسی نہیں 

واضح رہے کہ تاکائچی کو جاپان کے سابق وزیرِ اعظم شنزو آبے کی قریبی شاگرد سمجھا جاتا ہے، جو ٹرمپ کے ذاتی دوست اور گولف پارٹنر بھی تھے۔ انہوں نے ٹرمپ کو شنزو آبے کا گولف پٹر  شیشے کے کیس میں اور سونے کی پرت والا گولف بال تحفے میں پیش کیا۔

امریکا اور جاپان دونوں اس وقت عالمی سطح پر چین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے ایک نئے اقتصادی و دفاعی بلاک کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔

ٹرمپ منگل کو ٹوکیو میں بزنس لیڈرز سے ملاقات کریں گے، جب کہ بدھ کے روز وہ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ سے ملاقات کے لیے روانہ ہوں گے۔