لبنان کے دورے کے دوسرے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہاجا لحبیب نے کہا کہ انسانی امداد تو موجود ہے، مگر اکثر یہ اُن لوگوں تک نہیں پہنچ پاتی جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے مکمل احترام کے ساتھ امدادی رسائی یقینی بنانا ناگزیر ہے، دریائے لیتانی کے جنوب میں 55 دیہات ایسے ہیں، جہاں اسرائیلی فوجی سرگرمیوں اور انخلا کے احکامات کے باعث امدادی کام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

ہاجا لحبیب نے کہا کہ کئی پل اور اہم انفراسٹرکچر تباہ ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے امدادی قافلوں کو طویل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں اور متاثرین کو کئی کئی روز امداد کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حملوں میں اسپتالوں، ایمبولینسوں اور صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، صرف اپنا کام کرنے والے صحافیوں پر حملوں کا کوئی جواز نہیں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی ہر صورت پاسداری ہونی چاہیے۔

یورپی یونین کی بحران مینجمنٹ کمشنر  نے بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک یورپی یونین لبنان کے لیے تقریباً 10 کروڑ یورو کی انسانی امداد کا اعلان کر چکی ہے، جب کہ امدادی سامان سے بھرے 6 طیارے لبنان بھیجے جا چکے ہیں، ساتواں طیارہ بھی آئندہ چند روز میں پہنچنے والا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کو ایران کے جواب کا انتظار، امریکا ایران مذاکرات دوبارہ اسلام آباد میں متوقع

خیال رہے کہ امریکا کی ثالثی میں 17 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، تاہم اسرائیل نے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ ایران نواز حزب اللہ بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی اہداف پر حملوں کا اعلان کر چکی ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 2750 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 104 طبی اور امدادی کارکن شامل ہیں، جب کہ 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔