غیر ملکی میڈیا  کے مطابق پیڈرو سانچیز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپین کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ جنگ نہیں ہونی چاہیے، کسی بھی تنازع کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، کیونکہ جنگ نہ تو منصفانہ عالمی نظام قائم کر سکتی ہے اور نہ ہی اس سے عام شہریوں کی زندگیوں میں بہتری آ سکتی ہے۔

انہوں  نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے سے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنا ضروری ہے، عراق جنگ نے دنیا کو مزید غیر محفوظ بنایا اور اس کے اثرات آج بھی عالمی سیاست اور علاقائی استحکام پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

ان  کا کہنا تھا کہ جنگ سے نہ عوامی خدمات بہتر ہوتی ہیں، نہ روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور نہ ہی معیشت مستحکم ہوتی ہے،کسی بھی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ وسائل تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کے بجائے اسلحے پر خرچ ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسپین عالمی برادری کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے گا،موجودہ عالمی حالات میں ضروری ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تنازع کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف تیسری فوجی کارروائی کی تیاری، نئی قیادت بھی نشانے پر ہے : صدر ٹرمپ

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسپین امن، مکالمے اور بین الاقوامی قوانین کی بالادستی کے اصولوں پر قائم رہے گا اور ہر اس اقدام کی مخالفت کرے گا جو دنیا کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہو۔