عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کی خطے کے کسی بھی ملک کے ساتھ جنگ نہیں ہے، تاہم ایران پر حملے کے معاملے پر علاقائی ممالک کو امریکا پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے،ایران نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی، لیکن امریکی اقدام نے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان نے امریکی حملوں میں جاں بحق ہونے والی 160 طالبات کی قبروں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیں اور کہا کہ یہ وہ ’’ریسکیو‘‘ ہے جس کا وعدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام سے کیا تھا، معصوم جانوں کا ضیاع عالمی برادری کے ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہے۔

مزید پڑھیں: ایران جنگ کا اصل ہدف اسرائیل کا اثر و رسوخ پاکستان کی سرحد تک لانا ہے، خواجہ آصف

ادھر ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران نے طویل جنگ کی تیاری کر رکھی ہے اور اپنی چھ ہزار سالہ تہذیب کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر دباؤ ڈال کر اسے کمزور نہیں کیا جا سکتا اور ملک اپنے دفاع کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایرانی قیادت کے ان بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کی اپیلیں جاری ہیں۔