فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ بحریہ کے اہلکاروں اور میرین کمانڈوز نے کارروائی کرتے ہوئے ٹینکر کو ملک کے جنوبی ساحل کی جانب منتقل کر دیا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ملکی سمندری حدود میں قومی مفادات اور اثاثوں کا بھرپور دفاع کرے گی اور کسی بھی خلاف ورزی یا جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے کارروائی کی ویڈیو بھی نشر کی، جس میں ایرانی اہلکاروں کو جہاز پر چڑھتے اور اسے تحویل میں لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ میری ٹریکر کے مطابق یہ بحری جہاز بارباڈوس میں رجسٹرڈ تھا۔

تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے رسول سردر نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ایران نے کسی بحری جہاز کو قبضے میں لیا ہو۔ اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز میں ایسے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، تاہم اس بار ایران کے مؤقف میں ایک واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد خطے کی اسٹریٹیجک صورتحال بدل چکی ہے اور خلیج اور اہم بحری راستوں کو ایران کی قومی سلامتی کے خلاف استعمال کیا گیا۔

ایران نے اب ایک نئے  سمندری نظام  کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی حکام سے پیشگی اجازت اور مکمل رابطہ کرنا ہوگا۔

اس مقصد کے لیے  پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی  کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا جا رہا ہے جو آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی نگرانی کرے گا۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز پر ایران کے نئے اقدامات سے عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، امریکی سفیر

رپورٹ کے مطابق جہازوں کو اپنی روانگی، کارگو اور منزل کی تفصیلات ایرانی حکام کو فراہم کرنا ہوں گی، جس کے بعد ایران ان کا جائزہ لے کر ٹول فیس بھی وصول کرے گا۔

دفاعی تجزیہ کار الیکس الفیراز شیئرز نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کے ذریعے پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت اور اثر و رسوخ کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ اس اہم بحری گزرگاہ پر مکمل اسٹریٹیجک کنٹرول رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس اقدام کے ذریعے امریکہ کے ساتھ جاری غیر یقینی مذاکرات میں بھی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ معاہدے میں اپنے حق میں توازن پیدا کیا جا سکے۔