چینی سرکاری میڈیا کے مطابق سابق وزیر دفاع وی فینگھے اور لی شانگ فو کو فوجی عدالت نے بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے سخت سزائیں سنائیں۔

رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کو دی گئی سزائے موت دو سال کے لیے معطل رہے گی، جس کے بعد چینی قانون کے تحت ان سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے دونوں سابق عہدیداروں کے سیاسی حقوق بھی مستقل طور پر ختم کر دیے ہیں جبکہ ان کی جائیداد اور اثاثے ضبط کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق وی فینگھے کو بھاری رشوت لینے کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا، جبکہ لی شانگ فو پر رشوت لینے کے ساتھ ساتھ رشوت دینے کے الزامات بھی ثابت ہوئے۔

دونوں شخصیات 2018 سے 2023 کے دوران چین کی عسکری اور سیاسی قیادت میں انتہائی بااثر سمجھی جاتی تھیں اور وہ ملک کے طاقتور سینٹرل ملٹری کمیشن کے رکن بھی رہ چکے ہیں، جو چینی فوج کے اہم ترین فیصلے کرتا ہے۔

سیاسی اور دفاعی ماہرین کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں چینی فوجی قیادت کے خلاف ہونے والی سخت ترین عدالتی کارروائیوں میں سے ایک ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ چینی حکومت عسکری اداروں میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے غیرمعمولی سختی اختیار کر رہی ہے۔

واضح رہے  کہ صدر شی جن پنگ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بدعنوانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کی تھی، جس کے تحت اب تک متعدد اعلیٰ فوجی افسران، سرکاری حکام اور سیاسی شخصیات کو عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے جبکہ کئی افراد کو سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز پر ایران کے نئے اقدامات سے عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، امریکی سفیر

دوسری جانب بعض ناقدین کا مؤقف ہے کہ اینٹی کرپشن مہم کو بعض اوقات سیاسی مخالفین کو کمزور کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم چینی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ کارروائیوں کا مقصد صرف شفافیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔

یاد رہے کہ ان سزاؤں کے بعد چینی فوج اور حکومتی اداروں میں احتساب کا عمل مزید سخت ہونے کا امکان ہے، جبکہ اس اقدام کو شی جن پنگ کی طاقت اور حکومتی گرفت مضبوط ہونے کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔