یہ سوال صرف ایک نوجوان کی موت کا نہیں، بلکہ پورے نظام سے ہے کہ کیا ایک چالان کی اہمیت ایک انسانی جان سے زیادہ ہوگئی ہے؟
لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک پہلے ہی بے قابو ہے۔ کہیں ٹریفک جام، کہیں تجاوزات، کہیں غلط پارکنگ اور کہیں ناقص ٹریفک مینجمنٹ نے شہریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ایسے میں ٹریفک پولیس کی بنیادی ذمہ داری ٹریفک کو رواں رکھنا اور شہریوں کو محفوظ سفر فراہم کرنا ہے، لیکن افسوس کہ عام شہریوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ ٹریفک پولیس کو ٹریفک مینجمنٹ کے ادارے کے بجائے ریونیو اکٹھا کرنے والا محکمہ بنا دیا گیا ہے۔
سڑک پر ٹریفک رکی ہو، شہری خوار ہورہے ہوں، ایمبولینس راستے کی منتظر ہو، مگر وارڈن چالان کرنے میں مصروف ہو تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ترجیح کیا ہے؟ شہریوں کی سہولت یا چالان کا ہدف؟
قانون کی پابندی ضروری ہے۔ ہیلمٹ، لائسنس، کاغذات اور ٹریفک قوانین کی پاسداری ہر شہری کا فرض ہے۔ لیکن قانون نافذ کرنے کا مقصد زندگی بچانا ہے، زندگی خطرے میں ڈالنا نہیں۔
اگر ایک موٹر سائیکل سوار نے قانون کی خلاف ورزی کی تھی تو اسے روکا جاسکتا تھا، چالان کیا جاسکتا تھا، جرمانہ کیا جاسکتا تھا۔ مگر کسی شہری کو روکنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کرنا جس سے خود اہلکار اور شہری دونوں کی جان خطرے میں پڑ جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔
حالیہ واقعے میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایک نوجوان موٹر سائیکل سوار کو روکنے کی کوشش کی گئی، مبینہ طور پر وارڈن اس کے راستے میں آیا، ٹکر ہوئی، نوجوان شدید زخمی ہوا اور چند روز زندگی و موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔ اس واقعے میں متعلقہ وارڈن بھی زخمی ہوا۔
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ایک ٹریفک خلاف ورزی کی سزا موت ہے؟
اور اگر ایک اہلکار نے شہری کو روکنے کے لیے غیر محفوظ طریقہ اختیار کیا تو کیا ذمہ داری صرف اس نوجوان پر عائد ہوگی؟
مزید افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق متوفی نوجوان کے خلاف ہی مقدمہ درج کیا گیا۔ ذرا اس المیے کو ایک ماں کی آنکھ سے دیکھیے۔ جس بیٹے کو اس نے پال پوس کر بڑا کیا، جس کے مستقبل کے خواب دیکھے، آج وہ بیٹا گھر میں موجود نہیں۔
اس کی آواز نہیں، اس کی آمد کا انتظار نہیں، لیکن اس کے خلاف مقدمہ موجود ہے۔ شاعر نے شاید ایسے ہی کسی منظر کے لیے کہا تھا:
قاتل کی یہ دلیل بھی منصف نے مان لی
مقتول خود گرا تھا خنجر کی نوک پر
یہ شعر آج ہمارے نظام کے سامنے ایک سوال بن کر کھڑا ہے۔ میں کسی اہلکار کو تحقیقات سے پہلے مجرم قرار دینے کے حق میں نہیں۔
اگر وارڈن بے قصور ہے تو اسے بھی انصاف ملنا چاہیے۔ لیکن اگر شہری کی موت کسی اہلکار کے مبینہ غیر ذمہ دارانہ اقدام کے نتیجے میں ہوئی ہے تو شفاف، غیر جانب دارانہ اور مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور تمام شواہد کی روشنی میں اصل حقیقت عوام کے سامنے آنی چاہیے۔
محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ! آپ پنجاب کی وزیراعلیٰ ہیں اور خود کو پنجاب کے عوام کی ماں بھی قرار دیتی ہیں۔
ماں کے لیے اس سے بڑا دکھ کیا ہوگا کہ اس کے صوبے کا ایک نوجوان ریاستی ادارے کے ایک اہلکار کے مبینہ غیر ذمہ دارانہ رویے کے نتیجے میں جان سے چلا جائے؟ کیا وہ نوجوان بھی آپ کا بیٹا نہیں تھا؟
آپ نے ماضی میں اپنے صاحبزادے کی سکیورٹی گاڑی کا ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر چالان کرنے والے اہلکار کو سراہا تھا۔ یہ قانون کی بالادستی کی اچھی مثال تھی۔ مگر آج اسی اصول کا دوسرا امتحان ہے۔
اگر ایک عام نوجوان سے غلطی ہوئی تھی تو اسے قانون کے مطابق چالان کیا جاتا۔ لیکن کیا اس غلطی کی سزا موت تھی؟
آج اس نوجوان کی ماں کے پاس صرف آنسو ہیں، جبکہ آپ کے پاس اختیار ہے۔ آپ چاہیں تو اس واقعے کو ایک خبر بننے دیں، یا اسے پنجاب کے ٹریفک نظام کی اصلاح کا آغاز بنا دیں۔
جناب چیف ٹریفک آفیسر لاہور! آپ کے ماتحت ایک اہلکار زخمی ہوا، ایک شہری جان سے گیا اور ایک خاندان اجڑ گیا۔ کیا یہ معاملہ صرف ایک وارڈن کی غلطی کہہ کر ختم کیا جاسکتا ہے؟
اگر وارڈن نے غیر ذمہ دارانہ طریقہ اختیار کیا تو اسے ایسی صورتِ حال سے نمٹنے کی تربیت کس نے دی؟ اگر اس نے محکمہ جاتی قواعد کی خلاف ورزی کی تو نگرانی کا نظام کہاں تھا؟ اور اگر اہلکاروں پر چالانوں کا دباؤ ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وزیراعلیٰ یا کسی اعلیٰ افسر کے خلاف فوجداری مقدمہ بنتا ہے۔ مقدمہ شواہد اور قانون کی بنیاد پر بنتا ہے، جذبات کی بنیاد پر نہیں۔ لیکن انتظامی ذمہ داری کا سوال ضرور بنتا ہے۔
اگر چالانوں کے اہداف یا ادارہ جاتی دباؤ اہلکاروں کو شہریوں کی جان خطرے میں ڈالنے پر مجبور کررہا ہے تو پھر صرف سڑک پر موجود اہلکار نہیں، پورے نظام کو جواب دینا ہوگا۔
ہمیں چالانوں کی تعداد نہیں، محفوظ سڑکیں چاہئیں۔ ٹریفک پولیس کی کامیابی یہ نہیں کہ کتنے چالان کیے گئے اور کتنی رقم جمع ہوئی۔ کامیابی یہ ہے کہ کتنے حادثات روکے گئے، کتنی جانیں بچائی گئیں، ٹریفک کتنا بہتر ہوا اور کتنے شہری بحفاظت اپنی منزل تک پہنچے۔
محترمہ مریم نواز صاحبہ! اگر آپ واقعی پنجاب کے عوام کو اپنا خاندان سمجھتی ہیں تو اس نوجوان کی ماں کے سوال کا جواب بھی آپ ہی کو دینا ہوگا۔
چالان دوبارہ ہوسکتا ہے، جرمانہ دوبارہ وصول ہوسکتا ہے، مقدمہ دوبارہ درج ہوسکتا ہے، مگر ایک ماں کا بیٹا دوبارہ نہیں آسکتا۔
آخر ہمیں یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ قانون انسان کے لیے ہے یا انسان قانون کے لیے؟
اور اگر ایک چالان کی کوشش میں ایک نوجوان کی جان چلی جائے تو پھر سوال صرف ایک وارڈن سے نہیں، پورے نظام سے ہونا چاہیے۔







