غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اس حکمتِ عملی کے تحت واشنگٹن نے چین کے قریبی سمجھے جانے والے بعض لاطینی امریکی ممالک کے عہدیداروں کے خلاف سخت اقدامات بھی کیے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی کوسٹا ریکا، پاناما اور چلی کے بعض حکام کے امریکی ویزے منسوخ کر چکی ہے، جن پر چین کے ساتھ قریبی روابط رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
امریکا نے پاناما کینال کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ واشنگٹن نے الزام عائد کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کو چینی عناصر چلا رہے ہیں اور اسی بنیاد پر امریکا نے اسے واپس لینے کی دھمکی بھی دی ہے۔
اسی دوران امریکا نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لینے کے بعد ملک کو چین کو تیل کی برآمدات روکنے پر مجبور کر دیا۔
اب صدر ٹرمپ ایک مختلف سفارتی راستہ اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہفتے کے روز وہ اپنے نجی ریزورٹ مار-اے-لاگو میں لاطینی امریکی رہنماؤں کو مدعو کر رہے ہیں جہاں شیلڈ آف دی امریکاز کے نام سے ایک اہم سربراہی اجلاس منعقد ہوگا۔
یہ ابھی واضح نہیں کہ ٹرمپ لاطینی امریکی ممالک کو خطے کے بڑے معاشی شراکت دار چین سے دور ہونے پر کیسے آمادہ کریں گے۔ تاہم ماہرین کے مطابق واشنگٹن اس مرتبہ محض سیاسی پیغامات کے بجائے معاشی مراعات کی پیشکش بھی کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ طویل ہو سکتی ہے، دورانیہ ہم طے کریں گے: امریکی وزیر دفاع
چلی کی پونٹیفیکل کیتھولک یونیورسٹی کے ماہر فرانسسکو اُردینیز کا کہنا ہے کہ اگر امریکا خطے کے ممالک سے چین سے دوری چاہتا ہے تو اسے واضح معاشی فوائد بھی دینا ہوں گے، صرف تصویری ملاقاتیں اور مبہم وعدے اس مقصد کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس اجلاس میں تقریباً ایک درجن ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے، جن میں ارجنٹینا، بولیویا، چلی، کوسٹا ریکا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، ڈومینیکن ریپبلک، ہنڈوراس، پاناما، پیراگوئے اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خطے کی دو بڑی معیشتیں میکسیکو اور برازیل اس اجلاس میں شامل نہیں ہیں، کیونکہ دونوں ممالک میں اس وقت بائیں بازو کی حکومتیں برسرِ اقتدار ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس اجلاس کو ڈونرو ڈاکٹرائن کے تناظر میں ایک تاریخی ملاقات قرار دیا ہے، جس کا مقصد مغربی نصف کرے میں امریکی برتری کو مضبوط بنانا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت امریکا خطے میں اپنے نظریاتی اتحادیوں کا ایک اتحاد تشکیل دینا چاہتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ لاطینی امریکا میں چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ واشنگٹن آفس آن لاطینی امریکا کی ڈائریکٹر جیمینا سانچیز کے مطابق بیشتر ممالک کے لیے چین ان کے پہلے، دوسرے یا تیسرے بڑے تجارتی شراکت دار کے طور پر موجود ہے۔
چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور اس نے لاطینی امریکا میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، بڑے قرضوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنا اثر بہت مضبوط کر لیا ہے۔ 2024 میں جنوبی امریکا کے ساتھ چین کی دوطرفہ تجارت 518 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو ایک ریکارڈ سطح ہے۔
اگرچہ مجموعی طور پر لاطینی امریکا اور کیریبین کے ساتھ تجارت میں امریکا اب بھی سب سے بڑا بیرونی شراکت دار ہے۔ 2024 میں خطے سے امریکی درآمدات 661 ارب ڈالر جب کہ برآمدات 517 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
تاہم خطے کے اکثر ممالک کسی ایک طاقت کا ساتھ دینے کے بجائے امریکا اور چین دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکا خطے کے ممالک سے چین کے ساتھ تعلقات کم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے اس کے بدلے میں ٹھوس معاشی فوائد، تجارتی معاہدے اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔
ٹرمپ پہلے ہی بعض سیاسی اتحادی حکومتوں کو معاشی سہارا دینے کے اقدامات کر چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ارجنٹینا کے لیے 20 ارب ڈالر کے کرنسی سوآپ معاہدے کا اعلان کیا گیا جس کا مقصد ملکی کرنسی پیسو کو سہارا دینا تھا۔ اسی طرح ارجنٹینا کے گوشت کی امریکا میں درآمدات کا کوٹہ بھی بڑھایا گیا۔
امریکا کی ایک اور بڑی تشویش لاطینی امریکا میں چین کے زیرِ اثر اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور قدرتی وسائل ہیں۔ بولیویا، ارجنٹینا اور چلی میں لیتھیم کے دنیا کے بڑے ذخائر موجود ہیں جو جدید بیٹریوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی اہم دھات ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آیا واشنگٹن چین کی جانب سے پہلے سے فراہم کی گئی معاشی سہولتوں کا متبادل دے پائے گا یا نہیں۔ اگر امریکا ایسا کرنے میں ناکام رہا تو چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی حکمتِ عملی محض ایک خواہش ہی بن کر رہ جائے گی۔







