یہ قومی دن 25 مئی 2000 کو جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس سے 22 سالہ اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہوا تھا۔
لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ اس سال یومِ مزاحمت و آزادی کو جشن کے بجائے ان افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر منایا جانا چاہیے جو موجودہ تنازع سے متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن شہدا کے اہلِ خانہ، زخمیوں، قیدیوں، بے گھر افراد اور جنوبی لبنان و سرحدی دیہات کے ثابت قدم عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن ہونا چاہیے۔
نواف سلام نے مزید کہا کہ اصل جشن اُس دن منایا جائے گا جب اسرائیل مکمل طور پر ہماری سرزمین سے نکل جائے گا اور ہمارے لوگ باعزت اور محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں گے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ 2000 میں جنوبی لبنان کی آزادی عوام کی قربانیوں اور ثابت قدمی کا نتیجہ تھی اور 25 مئی قومی وقار کا دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال یہ دن ایسے وقت میں آیا ہے جب جنوبی لبنان کے کئی دیہات اسرائیلی حملوں اور ایک نئے قبضے کا سامنا کر رہے ہیں، جو اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1701 سمیت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
صدر عون نے کہا کہ لبنان اپنی سرزمین سے مکمل اسرائیلی انخلا کے لیے مذاکرات کے راستے پر قائم ہے، جب کہ ملکی خودمختاری کے تحفظ میں لبنانی فوج اور ریاستی اداروں کے کردار پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ لبنان اس صورتحال کو قبول نہیں کرے گا اور مکمل اسرائیلی انخلا قومی مطالبہ رہے گا۔
مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں: چینی صدر
دوسری جانب جنوبی لبنان کے 10 دیہات کے مکینوں کو پیر کے روز اسرائیلی بمباری کے باعث علاقہ خالی کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں، جب کہ سرحدی علاقوں میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی چیف آف اسٹاف نے حزب اللہ کی جانب سے ڈرون حملوں کے بعد بیروت پر کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اتوار کو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے، جب کہ جاری تنازع میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 3,151 تک پہنچ چکی ہے۔







