امریکی صدر نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کا راستہ مذاکرات اور معاہدے سے ہو کر گزرتا ہے، تاہم اگر ایرانی قیادت نے بات چیت سے گریز کیا تو امریکا اپنے فوجی دباؤ میں مزید اضافہ کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک وہ خود یہ فیصلہ نہ کر لیں کہ اب انہیں روکنے کا وقت آ گیا ہے، امریکا ایران پر ہر ممکن دباؤ برقرار رکھے گا تاکہ وہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کرے۔
امریکی صدر کے مطابق منگل کے روز امریکا اور ایران کے درمیان رابطہ ہوا، جس میں ایرانی حکام پر زور دیا گیا کہ وہ معاہدے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو سخت کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے بجلی پیدا کرنے والے مراکز، بڑے پل اور دیگر اہم تنصیبات ممکنہ اہداف ہوں گی، امریکا کے پاس اپنے مقاصد حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور اس کی عسکری صلاحیت کافی حد تک متاثر ہوئی ہے، ایران کے پاس اب بھی محدود دفاعی طاقت موجود ہے، لیکن وہ پہلے جیسی پوزیشن میں نہیں رہا۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی کے دوران ایرانی جزائر کیش اور قشم کے قریب دھماکوں اور فضائی سرگرمیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، صدر ٹرمپ
ادھر امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر 20 فیصد ٹول ٹیکس عائد کرنے سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف سے بھی پسپائی اختیار کر لی، آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس نافذ کرنے کا خیال انہیں پسند نہیں، اس لیے اس تجویز پر مزید غور نہیں کیا جا رہا۔
امریکی صدر کے تازہ بیانات کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ خطے میں ممکنہ سفارتی پیش رفت اور آئندہ چند روز کی صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔







