عالمی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ میری ذمہ داری ہے کیونکہ آپ لوگوں کو یہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا اور خود اسے قبول بھی کیا۔
صدر کے وکلاء نے بی بی سی کو ایک ارب ڈالر کے دعوے کی دھمکی دی ہے اور مطالبہ کیا کہ غلط اور متنازع بیانات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ ٹرمپ نے بی بی سی کو جمعہ تک عمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہے، ورنہ فلوریڈا کی عدالت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
🚨 JUST IN: President Trump CONFIRMS his intention to sue BBC for $1 BILLION after they deceptively edited his J6 speech
— Nick Sortor (@nicksortor) November 12, 2025
“They DEFRAUDED the public! And they’ve admitted it!”
British taxpayers are about to pay for Trump’s Presidential Library 🤣🔥 pic.twitter.com/EzPeTd11P2
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور نیوز چیف ڈیبورا ٹرنِس نے اس تنازع کے بعد استعفیٰ دے دیا، جب کہ صدر نے کہا کہ ایڈیٹنگ نے ان کے خطاب کو انتہائی غیر حقیقی اور انتہا پسندانہ دکھایا۔
برطانیہ کی کلچر سیکرٹری لیزا نینڈی نے کہا کہ بی بی سی کی آزادی برقرار رہنی چاہیے اور اسے عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔ موجودہ رائل چارٹر 2027 میں ختم ہو رہی ہے اور اس کی تجدید کا عمل شروع ہونے والا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ: آٹھ طیارے مار گرائے گئے تھے
صدر ٹرمپ کے مطابق بی بی سی نے ان کے خطاب کو اس طرح پیش کیا کہ ایسا لگے کہ وہ حامیوں کو کیپیٹل ہل کے سامنے تشدد پر اکسا رہے ہیں، حالانکہ خطاب کے ایک حصے میں انہوں نے پرامن احتجاج کی بات بھی کی تھی۔







